BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: ’حالات بہتر‘ وزارتِ داخلہ

ٹرین بلاسٹ
بلوچستان میں جاری کشیدگی میں کئی بار ٹرین بلاسٹ بھی ہوچکے ہیں۔ (فائل فوٹو)
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر حالیہ بڑے حملوں کے باوجود صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

اپنے دعوٰی کے حق میں وزارت داخلہ نے آج صحافیوں کو اعداد و شمار بھی فراہم کیے جن کے مطابق ان حملوں میں کمی آئی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حالیہ چند دنوں کے دوران نامعلوم افراد نے سیکیورٹی فورسز کو خصوصی طور پر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک حملے میں سات فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تیرہ جون سے لاپتہ دو پولیس اہلکاروں کی لاشیں کل ملی ہیں۔

منگل کو بریفنگ میں وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے صوبے کی تازہ ترین صورتحال پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں ملوث بیس مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے اس سال کے پہلے چھ ماہ کا موازنہ گزشتہ برس اسی عرصے سے کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد واقعات میں دو سو فیصد جبکہ مارے جانے والے افراد کی تعداد میں ڈیڑھ سو فیصد کمی آئی ہے۔

ان کی جانب سے فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ کمی راکٹ حملوں میں آئی ہے یعنی سال دو ہزار چھ میں تقریباً پانچ سو راکٹ حملوں کے برعکس اس برس صرف چوراسی حملے ہوئے۔

آئی ای ڈیز کے حملے ایک سو ساٹھ سے کم ہو کر ایک سو تئیس، بارودی سرنگوں کے دھماکے تقریبا پچاس سے کم ہوکر اٹھائیس، دستی بموں کے حملے سولہ سے کم ہو کر پانچ اور سکیورٹی فورسز پر حملے چار سو بیس سے کم ہوکر تقریبا ساٹھ رہ گئے ہیں۔ تاہم آباد کاروں پر حملوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کی تعداد سترہ سے سولہ ہوئی ہے۔

شدت پسند نڈر ہوئے یا مایوس؟
 بہت تھوڑے رہ گئے ہیں جو شاید مایوسی میں یہ حملے کر رہے ہیں۔ لیکن سکیورٹی فورسز خصوصا ایف سی اب کافی بہتر کام کر رہی ہے اور یہ بھی جلد قابو میں آ جائیں گے۔
ترجمان وزارِ خارجہ

ایک سوال کے جواب میں کہ تازہ حملے آیا شدت پسندوں کے زیادہ نڈر ہونے یا مایوس ہونے کو ظاہر کرتے ہیں، جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے اکثر لوگ یا تو پکڑے گئے ہیں یا پھر مارے گئے ہیں۔ ’بہت تھوڑے رہ گئے ہیں جو شاید مایوسی میں یہ حملے کر رہے ہیں۔ لیکن سکیورٹی فورسز خصوصا ایف سی اب کافی بہتر کام کر رہی ہے اور یہ بھی جلد قابو میں آ جائیں گے۔’

ملک میں سال دو ہزار دو سے لے کر اب تک کے بڑے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد چالیس ہے جن میں سے ستائیس کی تحقیقات میں انہیں کامیابی ہوئی، ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیا گیا اور انہیں سزائیں ہوئیں۔

انہوں نے اپنی کامیابی کی شرح تقریباً ستر فیصد بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ تیرہ واقعات میں بھی وہ ان میں ملوث عناصر کے سرغنوں تک پہنچ چکے ہیں اور انہیں جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن (فائل فوٹو)ایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی کیلیے دباؤ
جالڑی فوجی کارروائی
فوج اعتراف نہیں کررہی، لیکن 38 افراد ’ہلاک‘
بلوچستان کا مسئلہ
آئینی تبدیلی اور صوبائی خود مختاری کیوں؟
جنرل مشرفدھماکہ تاہلاکت
حکومت۔بگٹی کشیدگی کے گزشتہ دو سال
وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
اسلحہفوج کی محافظ
فوج نےلیویز کی خدمات حاصل کر لیں ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد