لاپتہ صحافی کی گھر واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر صحبت پور سے غائب کیے گئے صحافی عبدالطیف گولہ نے بتایا ہے کہ انہیں ٹیلیفون کی ایک مشکوک کال کی پوچھ گچھ کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ کچھ روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والے عبدالطیف گولہ بدھ کی رات واپس اپنے گھر پہنچے ہیں۔ بی بی سی سے ٹیلیفون کے ذریعے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو روز تک انہیں ایک حوالات میں رکھا گیا اور پھر کوئی دو دن تک کسی اور نا معلوم مقام پر، جہاں ان سے ٹیلیفون کی ایک کال کے بارے میں تفتیش کی جاتی رہی۔ لطیف گولہ کے مطابق کچھ ثابت نہ ہونے پر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں زبردستی لے جانے والوں میں پولیس کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ اہلکار بھی شامل تھے۔ تاہم انہوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی شناخت بتانے سے معذرت کا اظہار کیا۔ ’میرے ساتھ نہ تو کوئی برا سلوک کیا گیا اور نہ ہی مارا پیٹا گیا ہے‘۔ عبدالطیف گولہ کو سولہ اور سترہ جون کی درمیانی شب ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا، جس پر ملک بھر میں صحافیوں اور صحبت پور میں سیاستدانوں اور تاجروں نے احتجاج کیا تھا۔ عبدالطیف گولہ تحصیل صحبت پور میں اردو روزنامہ ’جنگ‘ کے نامہ نگار ہیں اور بیس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ |
اسی بارے میں عمر رسیدہ بزرگ بھی لاپتہ20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ انجینیئر کی رہائی کا فیصلہ20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں14 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||