حکومتی اہلکاروں سے جواب طلبی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاپتہ افراد کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو عمران منیر نامی شخص کے وکیل کو ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہ دینے پر تحریری جواب دائر کرنے کا حکم دینے کے علاوہ عمران منیر کے طبی معائنہ کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےگزشتہ سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو عمران منیر کے وکیل کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ دونوں اعلٰی اہلکار پیر کو عدالت کے سامنے پیش ہوئے تو عدالت نے انہیں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس کے علاوہ عمران منیر کا طبی معائنہ کرانے کا بھی حکم جاری کیا۔ سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے وضاحتی بیان میں بتایا کہ عدالت کی جانب سے وکیل کو ملاقات کا حکم جاری کیا گیا تھا تاہم رابطے میں تعطل یا مشکل کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ عدالت نے اس جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ احکامات پر حرف بہ حرف عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اس موقع پر کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عدالت کو یقین دلایا کہ اس سے قطع نظر کہ کون کیا ہے، حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔ عدالت کے سامنے ایک فوجی افسر نے عمران منیر کے خلاف کورٹ مارشل سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں جن کا جائزہ عدالت کے مطابق بند کمرے میں لیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے دریافت کیا کہ آیا عمران کو مناسب قانونی دفاع کا موقع فراہم کیا گیا تھا یا نہیں۔ بینچ کو بتایا گیا کہ آرمی ایکٹ میں موجود قانون کے تحت میجر شاہد اسرار کو عمران کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔ عدالت نے دریافت کیا کہ آیا عمران کے پاس دوسرا کوئی وکیل کرنے کا حق تھا یا نہیں۔ ججوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ آرمی ایکٹ سے متعلق ماضی میں بھی احکامات جاری کر چکے ہیں اور اس قانون کے تحت ملزم کو حاصل دوسری قانونی سہولت ختم نہیں کی جا سکتی۔ بعد ازاں عدالت نے اس مقدمے کی سماعت نو جولائی تک ملتوی کر دی۔عمران کے والد ڈاکٹر منیر احمد نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انہیں بیٹے کے وکیل مقرر کرنے کی اطلاع فون پر دی گئی تھی البتہ ان کا نام نہیں بتایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکر نے گزشتہ سماعت پر فاضل عدالت کو بتایا تھا کہ عمران منیر کو فوجی عدالت نے آٹھ برس قید کی سزا سنائی تھی اور وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں قید ہیں۔ تاہم ان کے والد اور وکلاء کا موقف ہے کہ یہ سزا عمران کو جاسوسی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک فوجی افسر کی رشتہ دار خاتون سے محبت کرنے کی پاداش میں ملی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور جسٹس فلک شیر پر مشتمل تین رکنی بینچ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہا ہے اور گزشتہ سماعت پر تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ کی کارروائی اتنی پھیلتی جا رہی ہے کہ عدالت اب غور کر رہی ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی کارروائی کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جائے یا کوئی کمیشن قائم کر دیا جائے جو صرف لاپتہ افراد سے متعلق کارروائی کرے۔ ادھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی صدارتی ریفرینس کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت بھی جاری ہے اور چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن دلائل دے رہے ہیں | اسی بارے میں افغان صحافی پر رپورٹ طلب 22 June, 2007 | پاکستان لاپتہ صحافی کی گھر واپسی21 June, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ انجینیئر کی رہائی کا فیصلہ20 June, 2007 | پاکستان عمر رسیدہ بزرگ بھی لاپتہ20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں14 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||