BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کی ’دوغلی‘ پالیسی

سیاسی رہنماؤں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے حکومتی اقدام پر حیرت کا اظہار کیا ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد قوم سے خطاب میں ایک شکایت یہ کی تھی کہ خفیہ ایجنسیوں نے جن اکسٹھ افراد کو دہشت گرد قرار دیا تھا انہیں ججوں نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

لیکن اس اعلان کے ایک روز بعد خود حکومت نے جنوبی وزیرستان میں دو سو فوجیوں کی رہائی کے بدلے میں مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعات میں گرفتار اٹھائیس افراد کو رہا کر دیا۔

سیاسی رہنماؤں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس اقدام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی دوغلی پالیسی قرار دیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صرف اتنا بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ نے چند قبائلی رہا کیئے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے وقت قوم سے اپنی تقریر میں سپریم کورٹ کے بعض ججوں پر جو الزامات کی لمبی فہرست پیش کی ان میں ایک الزام یہ بھی تھا۔

’(لاپتہ افراد کے مقدمے میں) اب صورتحال یہ ہے کہ ان میں سے اکسٹھ دہشت گرد جن کو خفیہ ایجنسیوں نے بلیک لسٹ قرار دیا تھا یعنی بلکل کنفرم دہشت گرد ان کو رہا کر دیا گیا۔ وہ اب دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں۔ کوئی پتہ نہیں کہ پنڈی، سرگودھا یا کراچی انہوں نے ہی کیا ہو۔‘

یہ الزام عائد کرنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی خود حکومت نے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات میں گرفتار اٹھائیس افراد کو دو سو فوجیوں کی رہائی کے بدلے میں رہا کر دیا۔

یہ تمام افراد مبینہ دہشت گرد کارروائیوں یعنی خودکش حملوں یا پولیس اور فوج پر حملوں کے الزامات کے تحت گرفتار کیئے گئے تھے۔ ان میں سے تین تو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزا یافتہ بھی بتائے جاتے ہیں۔

فیصلہ کرنے والوں کا نیا حلف
لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل دو ججوں نے اب نئے پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھا لیا ہے

ان میں ایک اہم شخص قبائلی جنگجو عبداللہ محسود کا چچا زاد بھائی سہیل زیب بھی شامل ہے جسے اس سال ستمبر کے آخر میں ڈیرہ اسماعیل خان کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے چوبیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ٹانک سے دو خودکش جیکٹس سمیت دھماکہ خیزمواد رکھنے والے ملزم سہیل زیب کو پچاس ہزار جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔ دہشتگردی عدالت کے جج فیاض اللہ نے سہیل زیب کے کیس کا فیصلہ سناتے وقت بتایا تھا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید دو سال قید کاٹنی ہوگی۔

سہیل زیب کو آٹھ مارچ دو ہزار سات کو ٹانک پولیس نے تھانہ ٹانک کی حدود میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب اس کے بیگ سے دو خودکش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

ڈیرہ سنٹرل جیل کے ایک اعلی افسر نے سہیل زیب، امجداللہ، عبدالقادر، جمشد گنڈہ پور، حضرت اللہ، عصمت اللہ اور عبدالسلام کے رہائی کی تصدیق کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سنیٹر اور وکیل بابر اعوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر عدالت کو کسی تہمت والے شخص کو رہا کرنے کا اختیار نہیں تو انظامیہ یعنی حکومت بھی یہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل دو ججوں نے تو اب نئے پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھا لیا ہے۔

حکومت جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے ساتھ مذاکرات میں پہلے ہی تین افراد کو رہائی دے چکی تھی جبکہ باقی پچیس کو کل ہیلی کاپٹر کے ذریعے تیارزہ لایا گیا۔

مشرف حکومت کی اسلام آباد میں لال مسجد کے محاصرے کے دوران بھی بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ مسجد کے اندر زبردستی رکھے جانے والے طلبہ و طالبات کی زندگی بچانے کی خاطر نائب مہتمم عبدالرشید غازی اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔ کسی کا کہنا تھا کہ اگر قبائلی علاقوں میں اتنے حکومت مخالف شدت پسند موجود ہیں تو ایک اور کے اضافے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تاہم حکومت نے اسے مسترد کر دیا اور بعد فوجی کارروائی میں سو سے زائد افراد جانیں کھو بیٹھے۔ مشرف حکومت کے ان اقدامات پر اس وقت بھی سوالات اٹھائے گئے اور اب بھی ضرور اٹھائے جائیں گے۔

اسی بارے میں
فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی
03 September, 2007 | پاکستان
فوجیوں کی تلاش بے سود
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد