BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبائلی علاقوں میں فوجی اڈے نہیں‘

پاکستانی فوج
نیم فوجی ملیشیا فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو مستحکم کیا جائے گا:ترجمان
پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس خبر کی تردی کی ہے کہ وہ ملک کے قبائلی علاقوں میں مستقل بنیادوں پر فوجی اڈے بنانے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بات وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نےاسلام آباد میں صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتائی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دو روز قبل ایک خبر جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں مستقل بنیادوں پر فوجی اڈے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر کے مطابق ایک اعشاریہ چار ارب روپے کی لاگت سے قائم کیے جانے والے یہ اڈے ورسک، رزمک، پاڑا چنار اور ضلع دیر میں ثمر باغ کے مقام پر تعمیر کیے جانے تھے۔ خبر کے مطابق اس مقصد کے لئے درکار رقم کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

ترجمان نے وزارت کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں کسی مستقل اڈے کے قیام کا ارادہ نہیں رکھتی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے میں نیم فوجی ملیشیا فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو مستحکم کیا جائے گا۔ ’ان فورسز کو مضبوط کرنا علاقے میں امن اور استحکام کے لئے کثرالجہتی لائحہ عمل کا حصہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان فورسز کو نہ صرف سرحد کی نگرانی بلکہ بندوبستی علاقوں تک انتہا پسندوں کی رسائی روکنے کی ذمہ داری بھی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مقامی قبائل اس بابت حکومت سے بھرپور تعاون کریں گے۔

وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے امن معاہدے کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے سکیورٹی فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصانات اور اغوا شدہ فوجیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی اعداد وشمار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی خطے میں تعینات فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں اور علاقہ ان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فوجی جلد رہا کر دیے جائیں گے جس کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

صوبہ پنجاب میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں کی تفتیش کے بارے میں وزارت داخلہ کے ترجمان نے پیش رفت کا دعویٰ کیا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں گرفتاریاں آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔

برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقاتی اداروں نے راولپنڈی، لاہور اور سرگودھا میں دہشت گردی کے وارداتوں کی پیش رفت میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔

’قانون نافذ کرنے والے ادارے حتمی گرہیں کھول رہے ہیں۔ ہم تفصیلات فی الحال عام نہیں کر رہے کیونکہ چند اہم گرفتاریاں آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔‘

تربیلا غازی میں فوجی میس میں گزشتہ ہفتہ خودکش حملے کی تحقیقات کے بارے میں جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ اس میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے اور وہ جلد اس میں ملوث نیٹ ورک تک پہنچ جائیں گے۔ ’مجرم قانون کے شکنجے سے نہیں بچ پائیں گے۔’

صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
فائل فوٹوقبائلی تنازعات
سندھ میں قبائلی تصادم میں 486 افراد ہلاک
ٹانک ایک اکھاڑہ
’یہ شہر پل بھر میں قبائلی علاقہ بن سکتا ہے‘
 مولوی فقیر محمد طالبان کی دھمکی
’لال مسجد محاصرہ ختم نہ ہوا تو اعلانِ جہاد‘
حاجی رسول خان محسود کراچی میں رہنے والے قبائلیکراچی میں قبائلی
قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند
فوجفاٹا: سالنامہ 06
فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد