قبائلی تنازعات، دس اضلاع متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں گزشتہ چند سال کے دوران قبائلی تصادم میں اب تک چار سو چھیاسی سے زائد افراد ہلاک جبکہ دو سو بیس سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے ترتیب دی گئی ایک رپورٹ کے مطابق تصادم کا یہ سلسلہ سندھ کے دس اضلاع میں جاری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گھوٹکی، قمبر، شہداد کوٹ، شکارپور، جیکب آباد، دادو، لاڑکانہ، سانگھڑ، نوشہروفیروز، خیرپور اور سکھر ضلع میں سڑسٹھ قبائلی تنازعات ہیں۔ یہ تنازعات زمین کی حقِ ملکیت، بھینس، گائے یا ٹریکٹر کی چوری جیسے معمولی معاملات سے لے کر کارو کاری، بغیر اجازت گاؤں میں سے گزرنے اور لڑکے لڑکی کی مرضی سےشادی پر پیدا ہوئے ہیں۔ ان تنازعات میں زیادہ متاثر ضلع شکارپور ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اڑتالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ تنازعات لاڑکانہ ضلع میں ہیں جہاں انیس قبائل کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔ آپس میں لڑنے والے قبائل میں مہر، جتوئی، چانڈیو، چاچڑ، شر، سندرانی، لولائی، مارفانی، تیغانی، کلہوڑو، میرانی، کھوسو، جاگیرانی، سولنگی، چانڈیو اور ناریجہ قبائل ہیں۔ محکمہ داخلہ نے رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ تصادموں کی روک تھام مقامی سرداروں جن میں وفاقی وزراء اور منتخب اراکینِ اسمبلی، کے قبائلی سرداروں میں سے اکثر کا تعلق حکمران یا اتحادی جماعت سے ہے جو حکومت میں تو ساتھ ہیں مگر قبائلی طور پر ان کے آپس میں تنازعات ہیں۔ کئی سال سے جاری ان تنازعات میں سے کئی کا جرگوں کے ذریعے تصفیہ بھی ہوا ہے جن میں بعض قبیلوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں مگر یہ تصفیے پائیدار ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ جرگوں کے ذریعے تنازعات کے فیصلوں پر پابندی عائد کرچکی ہے مگر اس کے باوجود کئی وزراء خود ان جرگوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ سندھ کے محکمہ داخلہ کے معاون وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اب حکومت ایسے عناصر سے سختی سے نمبٹے گی۔ سرداروں سے پہلے بات کی جائے گی کہ وہ اپنے معاملات طے کرلیں ورنہ ان کے خلاف ایکشن لیا جائےگا۔ انہوں نے کہا وہ کسی جرگے کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کا کسی جرگے سے کوئی تعلق ہے۔ محکمہ داخلہ کے سیکرٹری غلام محمد محترم کا کہنا ہے سرداروں سے رابطے کرکے ثالثی کی جائے گی اور کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو فیصلے کرائیں گی اور ان پر عملدرآمد کی بھی پابند ہوں گی۔ ان کے مطابق ان کو جرگوں کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ قبائلی تصادم کی وجہ سے کئی علاقے مخالف قبائل کے لیے نوگو ایریا بنے ہوئے ہیں اور وہاں کی تعلیم اور زرعی معشیت سخت متاثر ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں قبائلی سرداروں کی سپریم کونسل01 October, 2006 | پاکستان حکام کےقبائلیوں سے رابطے بحال27 June, 2006 | پاکستان قبائلی شورش: مذاکرات پر زور20 November, 2006 | پاکستان میرپورخاص میں تصادم، ایک ہلاک10 August, 2005 | پاکستان تصادم میں 4 شدت پسند ہلاک03 October, 2005 | پاکستان باڑہ: تصادم میں پانچ افراد ہلاک29 August, 2006 | پاکستان پارہ چنار: فرقہ وارانہ تصادم میں 8 ہلاک07 April, 2007 | پاکستان کرم ایجسنی: تصادم کیوں شروع ہوا؟10 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||