BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2004, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے یاگاڑیوں کی منڈی

قبائلی علاقے

پنجاب کے وزیر کھیل اور ثقافت نعیم اللہ شاہانی کی گمشدگی کو پانچ روز ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک حکام ان کا سراغ لگانے میں بظاہر ناکام رہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان گاڑی خریدنے گئے تھے کہ واپسی پر لاپتہ ہوگئے۔

وزیرِ ثقافت کا گاڑی خریدنے کے لئے وزیرستان جانے کا فیصلہ غالباً اس لئے تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے گاڑیوں کی ایک بڑی منڈی ہیں۔ اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے یہاں حکومت کا اختیار نسبتاً کم ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سمگلنگ، منشیات اورکسٹم ادا نہ کرکے گاڑیاں خریدنے جیسے کاروبار جوملک کے دیگر خطوں میں غیرقانونی قرار پاتے ہیں یہاں جائز تصور کئے جاتے ہیں۔

اگرچہ افغانستان سے لائی گئی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں تمام قبائلی علاقوں میں دستیاب ہیں لیکن شمالی وزیرستان کا صدر مقام میران شاہ اس کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ اس کے علاوہ سرحد پار افغانستان میں چمن کے قریب ویش اور طورخم میں بھی ہزاروں کی تعداد میں تقریبا ہر نوع اور قسم کی نئی اور پرانی گاڑیاں دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ ریکنڈیشنڈ گاڑیاں بھی یہاں مل جاتی ہیں۔

یہ گاڑیاں دوبئی سے براستہ ایران، افغانستان پہنچتی ہیں۔

ان علاقوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے چوری کی گئی گاڑیاں بھی فروخت کی جاتی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اکثر ایسی گاڑیاں اب کھول کر پرزوں کی شکل میں فروخت کر دی جاتی ہیں۔

یہ کاروبار کافی پرانا ہے اور اس کے اب تک منافع بخش رہنے کی وجہ ان گاڑیوں کی حیرت انگیز حد تک کم قیمتیں ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر ملنے والی چھ لاکھ روپے تک کی گاڑی یہاں صرف ایک ڈیڑھ لاکھ میں مل جاتی ہے یعنی ایک چوتھائی سے بھی کم قیمت پر۔ یہ گاڑیاں دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے کہ کیا جاپانی اتنی سستی مگر معیاری گاڑیاں کیسے بنا لیتے ہیں جبکہ پاکستان حکومت پر بھی کچھ نہ کرتے ہوئے بھی ان پر چار گنا ٹیکس لینے کی وجہ سے غصہ آتا ہے۔ یہ ٹیکس کہاں خرچ کیا جاتا ہے اس پر روشنی ڈالنے کی یقینی ضرورت نہیں۔

اگر آپ کسی اچھے ادارے سے منسلک ہیں اور بارگین کے مالک کو اطمینان ہوکہ آپ کی تنخواہ اس کے حساب سے معقول ہے تو میری طرح آپ کو بھی وہ شاید قسطوں پر بھی یہ گاڑیاں دینے کی آفر کر سکتا ہے۔ ایسی آفر اور گاڑیاں دیکھ کر منہ میں پانی ضرور آتا ہے لیکن بدنامی اور پیسے ڈوبنے کا خوف ڈیل سے روک دیتا ہے۔

ان گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی چونکہ ادا نہیں کی گئی ہوتی لہذا اُنہیں پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں نہیں استعمال کیا جا سکتا۔ لیکن کئی ’بہادر، دولت مند اور با اختیار‘ لوگ یہ رسک لیتے ہیں۔ وہ قبائلی علاقوں سے آنے والے راستے پر قائم بےشمار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیوں پر جیبیں گرم کرتے ہوئے یہ گاڑیاں شہروں تک لے آتے ہیں اور کسی دوسری گاڑی کی نمبر پلیٹ لگا کر اسے چلاتے رہتے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر چیک پوسٹ پر تقریبا بیس ہزار روپے تک کی ’ڈیوٹی’ ادا کی جاتی ہے تب اسے جانے دیا جاتا ہے۔

حکومت نے کئی مرتبہ ایسی گاڑیوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے خصوصی مہمات بھی چلائیں جن میں گاڑی مالکان کو جرمانہ معاف کر کے صرف ڈیوٹی ادا کرنے کے لئے کہا جاتا اور یوں بڑی تعداد میں لوگ منٹوں میں لاکھوں روپے بنا لیتے ہیں۔ آخری مرتبہ یہ رعایت حکومت نے انیس سو اٹھانوے میں دی تھی۔

قبائلی علاقوں میں ان گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے کئی تاجر یہ گاڑی پاکستان کے کسی بھی کونے میں خریدار کے گھر تک پہنچانے کا ذمہ بھی معمولی سے رقم کے عوض لیتے ہیں۔ خریدار کو صرف گاڑی پسند کرنے اور ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ گاڑی چند روز میں آپ کے مکان کے باہر کھڑی ملے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد