BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی سرداروں کی سپریم کونسل

جرگہ
قلات میں گرینڈ جرگہ کے بعد بلوچ سردار اب کوئٹہ میں اکھٹے ہو رہے ہیں
بلوچ قبائل کا جرگہ خان آف قلات کی سربراہی میں کل یعنی سوموار کو کوئٹہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں قبائلی سرداروں پر مشتمل سپریم کونسل قائم کی جائے گی۔

قلات میں گرینڈ جرگہ کے بعد بلوچ سردار اب کوئٹہ میں اکھٹے ہو رہے ہیں جس میں قلات جرگہ میں پیش کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

چیف آف جھلاوان سردار ثناءاللہ زہری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس جرگے میں ایک سپریم کونسل قائم کی جائے گی جس میں خان آف قلات وہ خود یعنی چیف آف جھلاوان چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی اور دیگر سردار شامل ہوں گے ۔

انہوں نے کہا سپریم کونسل حکومت کی جانب سے قبائلی نطام میں مداخلت کے حوالےسے کوشش کرے گی جس طرح نواب اکر بگٹی کے علاقے میں چند لوگوں کو اکٹھا کرکے سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا گیا یا نواب اکبر بگٹی کی جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے سازشیں کی جا رہی ہیں اس لیے ہر مرتبہ گرینڈ جرگہ نہیں بلایا جاسکتا لہذا سپریم کونسل ہی ایسے معاملات کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس جرگے میں ماہرین کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ قلات میں منعقدہ گرینڈ جرگے کی قرار دادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اکیس اگست کو قلات میں منعقد ہونے والے گرینڈ جرگے کے اختتام پر سات نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ انیس سو چھیالیس میں تاج برطانیہ اور پھر انیس سو اڑتالیس میں حکومت پاکستان سے الحاق اور دیگر معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

سپریم کونسل اور جنرل کونسل
 سوموار کو ہونے والے جرگے میں سپریم کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل کونسل بھی قائم کی جائے گی اور دیگر صوبوں میں مقیم بلوچوں سے رابطے قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے

اس حوالےسے گرینڈ جرگہ نے فیصلہ کیا تھا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کی تنظیم کے سابق چیئرمین طاہر محمد خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے صرف ریاست یا ملک رجوع کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ ایک قوم ہے اس کی اپنی زبان ہے اپنا علاقہ ہے لیکن یہ ایک ریاست نہیں ہے جس وجہ سے یہ بین الاقوامی عدالت انصاف نہیں جا سکتے۔

خان آف قلات سلیمان داؤد کے بھائی احمد یار خان نے بتایا ہے کہ سوموار کو ہونے والے جرگے میں سپریم کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل کونسل بھی قائم کی جائے گی اور دیگر صوبوں میں مقیم بلوچوں سے رابطے قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد