فوج ہمیں بھلا نہیں سکتی:یرغمال فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان نےگزشتہ چالیس روز سے جن ڈھائی سو سے زائد فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے وہ امید کر رہے ہیں کہ فوج ان کی رہائی کے لیے مذاکرات یا طاقت کے استعمال کے بارے میں سوچ رہی ہوگی۔ تیس اگست کو جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں قافلے میں شامل ان تقریباً تین سو فوجیوں میں سے تین نے بی بی سی اردو ڈام کام سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ انہیں اچھے طریقے سے رکھا جا رہا ہے لیکن ’حراست حراست ہی ہوتی ہے۔‘ انٹرویو جنوبی وزیرستان میں کسی پہاڑی مقام پر ہوا جس کے بارے میں طالبان نے نہیں بتایا کہ وہ جگہ کون سی ہے۔ جن فوجی افسروں سے بیت اللہ محسود گروپ کی اجازت سے بات ہوئی ان میں اس فوجی قافلے کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل ظفر، میجر عتیق اعظم اور لیفٹیننٹ فرخ منصور شامل تھے۔ طالبان نے ان فوجیوں کو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بانٹ کر ایک بڑے علاقے میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ یہ ان کا کسی بھی صحافی سے پہلا انٹرویو تھا۔ کرنل ظفر کا کہنا تھا کہ وہ راشن کی رسد لے کر شکئی سے لدھا جا رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی فوجی کارروائی کے ارادے سے وہاں نہیں گئے تھے۔ میجر عتیق اعظم بتایا کہ وہ امید کر رہے ہیں کہ فوجی کی اعلیٰ کمان ان کی رہائی کے لیے مختلف آپشنز پر سوچ بچار کر رہی ہوگی جن میں بات چیت کے علاوہ ایکشن بھی شامل ہیں۔ ’وہ اتنی بڑی فورس کو بھول نہیں سکتے یا آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔ کچھ نہ کچھ سوچا جا رہا ہوگا۔‘ طالبان کی جانب سے فراہم کی گئی شلوار قمیضں میں ملبوث لیفٹیننٹ فرخ کافی خاموش تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’انشا اللہ خدا خیر کرے گا۔‘
ان مغویوں میں سے اکتیس اب تک رہا کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ تین کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جا چکا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ان فوجیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے دوران خیرسگالی کے اظہار کے طور پر انہوں نے اکتیس افراد رہا کیے ہیں تاہم حکومت سنجیدہ نہیں اور مسئلے کا حل ان کے ہاتھ میں ہے۔ طالبان نے ان فوجیوں کی رہائی کے لیے ان کے تیس گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ مقامی طالبان نے ہمیں ایک قلعہ نما مکان میں رکھا۔ ان انٹرویوز کے لیے ان فوجیوں کو رات کی تاریکی میں وہاں لایا گیا۔ پہلے میجر اور لیفٹیننٹ اور بعد میں کرنل کو۔ یہ تینوں انٹرویوز کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن مقامی طالبان کے دباؤ کے بعد انہوں نے بات کی۔ کرنل صاحب نے تو مختصر بات کی لیکن میجر صاحب تفصیل سے بولے۔ شام کے وقت شروع ہونے والے یہ بات چیت سحری تک جاری رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے قبائلی روایات کے مطابق اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہیں تین فوجیوں کے بارے میں طالبان نے نہیں بتایا جنہیں گزشتہ دنوں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان فوجیوں کو ابتدائی دنوں میں اپنے گھر فون کرنے کی بھی اجازت تھی لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے بند کر دیا گیا۔ تاہم میجر عتیق نے بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ طالبان نے سب فوجیوں کی حالت دیکھنے کے لیے ان کے پاس جانے کی اجازت دی تھی۔ | اسی بارے میں پاکستان کا ’طالبان جوا‘16 May, 2006 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘26 April, 2006 | پاکستان مغویوں کی بازیابی، مزید وقت درکار 08 September, 2007 | پاکستان صدارتی الیکشن، اہلکاروں کی رہائی29 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: مزید پچیس فوجی رہا21 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||