BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 October, 2007, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تینوں افسروں کے انٹرویو کا متن
میجر عتیق اعظم
ان کا شبہ یہ تھا کہ ہم شاید کسی آپریشن کے لیے آ رہے ہیں، وہ اپنی اور ہم اپنی تعداد بڑھاتے رہے: میجر عتیق
میجر عتیق اعظم بھی ان سینکڑوں فوجیوں میں شامل ہیں جنہیں وزیرستان میں بیت اللہ گروپ نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا تعلق فوج کے بلوچ یونٹ سے ہے۔ وہ پانچ ماہ سے جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے ہیں۔ ان کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ سے ہے۔ ان سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کےانٹرویو کا مکمل متن ذیل میں دیا جارہا ہے-

سوال: وہ کون سے حالات تھے جن میں فوجی قافلے کو یرغمال بنا لیا گیا؟

جواب: ہم تیس اگست کو شکئی سے لدھا راشن لیجانے کے لیے صبح چھ بجے روانہ ہوئے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ دو روز پہلے بات ہوگئی ہے۔ قافلہ سڑک کا استعمال کرسکے گی لیکن فوج نیچے نہیں اترے گی۔ پہلے حفاظتی گاڑیاں تھیں جو مختلف مقامات پر پوزیشنیں لے لیتی ہیں تاکہ قافلے پر حملے کی صورت میں زخمی یا بچنے والوں کو نکالا جا سکے۔ ایک جگہ سڑک خراب تھی، اس کو ٹھیک کر رہے تھے۔ مقامی لوگ طالبان بھی مدد کررہے تھے۔ آہستہ آہستہ تعداد بڑھ رہی تھی، ہم مطمئن تھے کہ بات ہو چکی ہے، کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے بعد حالات خراب ہوگئے۔ آخر میں حالات کچھ زیادہ خراب ہوگئے۔ ڈھائی پونے تین بجے ان کے قبضے میں آ چکے تھے۔ ہماری تو چین آف کمانڈ ہوتی ہے، لیفٹینٹ کرنل نے ہمیں بتایا تھا وہ بھی ساتھ جا رہے تھے۔

س: آپ کے قافلے کی تفصیل کیا تھی؟

ج: ہمارا قافلہ چار گروپس پر مشتمل تھا۔ ان میں سے تین حفاظتی اور ایک راشن والا تھا۔ میں راشن والے کانوائے سے تھا۔

س: طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا دو روز قبل فوج سے معاہدہ ہوا تھا کہ فوج علاقے میں نہیں جائے گی۔ صرف جو باہر جانا چاہے وہ جا سکے گی؟

ج: اس میں دو باتیں ہیں۔ طالبان سے جن کی بات ہوئی وہ اعلیٰ کمان کے لوگ تھے۔ ہمیں تو ہماری چین آف کمانڈ میں جو قریب ترین افسر ہے وہ بتا سکتا ہے۔ حکومت سے کیا معاہدہ ہوا تھا مجھے نہیں معلوم۔ بنیادی طور پر راشن ہی جا رہا تھا۔ قافلے میں بیس پچیس ایسے فوجی بھی تھے جنہیں چھٹی پر جانے والوں کی جگہ لینی تھی۔ میرے گروپ نے لدھا جانا تھا۔ باقی نے راستہ محفوظ بنانا تھا۔

ریڈیو کی سہولت
 ریڈیو کی سہولت چند دن پہلے تک تھی لیکن اب نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا خیال ہو کہ ہم خبریں سُن کر کہیں زیادہ پریشان نہ ہوں۔ پچھلے چار پانچ دنوں سے باہر دنیا میں کیا ہو رہا ہمیں اس کا کچھ پتہ نہیں
میجر عتیق اعظم
س: طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو گاڑیاں قبضے میں لیں ان میں راشن نہیں تھا؟

ج: جی بالکل میں نے پہلے بتایا کہ مین کانوائے کی حفاظت کے لیے چھوٹی گاڑیاں ہوتی ہیں ڈبل یا سنگل کیبن۔ ان میں راشن نہیں لے جاتے۔ ٹرک راشن لے جاتے ہیں وہ میرے ساتھ تھے۔

س: یہ کیسے ہوا کہ ایک گولی بھی نہیں چلی اور آپ یرغمال ہوگئے؟

ج: جس طریقے سے انہوں نے کیا وہ مختلف تھا۔ اکثر وہ گھات لگاتے تو پھر فائر ہوتی تو جواب دیتے۔ اس موقع پر طالبان نے گولی نہیں چلائی سو ہم نے بھی نہیں چلائی۔ بات شروع ہوئی اور بات ہی چلتی رہی۔ ہمارے سینیئرز ان سے بات کر رہے تھے۔ مجھے نہیں پتہ پھر کیا ہوا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے بعد میں ہمیں چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم کر دیا۔

س: پاکستان فوج تو ایک بڑی فائیٹنگ مشین سمجھی جاتی ہے یہ کیسے ہوا؟

ج: میں کمینٹ نہیں کر سکتا۔ اس کو اس سینس میں نہ لیں۔ گولی انہوں نے بھی نہیں چلائی اور بات ہو رہی تھی اور آخر دم تک ہی بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ چند گھنٹوں میں چھوڑ دیں گے۔ آخری سی او سے بات ہوئی، اُن کا کہنا تھا کہ ان کی امیر سے بات ہوگئی ہے۔ یہاں سے واپس شکئی جائیں گے اور پھر ان سے بات کے بعد راشن آگے جائے گا۔ ان کا شبہ یہ تھا کہ ہم شاید کسی آپریشن کے لیے آ رہے ہیں۔ وہ اپنی اور ہم اپنی تعداد بڑھاتے رہے۔ ہمارا شبہ تھا کہ یہ ہمیں پکڑ رہے ہیں۔ اگر شروع میں ان سے بات ہو جاتی تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

س: ابھی تک آپ کو ریسکو کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، کیا فوج ایسا کرے گی؟

ج: ہوتا ہے اور ہوگا، فوج نے اپنے آپشن ورک آؤٹ کیے ہونگے اور اسی میں مذاکرات بھی ہونگے، مجھے خدشہ ہے کہ طاقت کا استعمال بھی ہوگا۔ ثالثوں کے ذریعے بات بھی ہو رہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ہمارا ان سے رابطہ نہیں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ اور ہمیں اُن سے رابطے کی اجازت بھی نہیں۔

س: وقت کیسے گزارتے ہیں؟

ایکشن یا مفاہمت ہوہی جائے گی
 میں تو چاہتا ہوں کہ جلد از جلد مسئلہ حل ہونا چاہیے جس طرح بھی ہو شاید صدارتی انتخابات کی وجہ سے توجہ ادھر ادھر ہوگئی ظاہر ہے کافی وقت ہوگیا ہے کوئی نہ کوئی ایکشن یا مفاہمت ہوہی جائے گی
میجر عتیق اعظم
ج: ریڈیو کی سہولت چند دن پہلے تک تھی لیکن اب نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا خیال ہو کہ ہم خبریں سُن کر کہیں زیادہ پریشان نہ ہوں۔ پچھلے چار پانچ دنوں سے باہر دنیا میں کیا ہو رہا ہمیں اس کا کچھ پتہ نہیں۔ روزے میں کھانا پینا تو ہوتا نہیں بس بیٹھے رہتے ہیں۔

س: کیا امید ہے رہائی کب تک ممکن ہوسکے گی؟

ج: ابھی بھی معلومات کا بالکل بلیک آؤٹ ہے، نہ کوئی اخبار نہ ریڈیو۔ ان کے مذاکرات ضرور ہو رہے ہوں گے۔ اتنی بڑی تعداد میں فورس کو وہ چھوڑ نہیں سکتے، نہ ہی آنکھیں بند کرسکتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی بات تو ہو رہی ہوگی ہمیں نہیں معلوم۔

س: اپنی رہائی کے لیے کوئی اپیل؟

ج: میں تو چاہتا ہوں کہ جلد از جلد مسئلہ حل ہونا چاہیے جس طرح بھی ہو شاید صدارتی انتخابات کی وجہ سے توجہ ادھر ادھر ہوگئی، ظاہر ہے کافی وقت ہوگیا ہے کوئی نہ کوئی ایکشن یا مفاہمت ہوہی جائے گی۔

لیفٹنٹ کرنل ظفر اس قافلے کی قیادت کر رہے تھے جسے مقامی طالبان نے یرغمال بنا لیا۔ ان کا تعلق لاہور میں رائے وِنڈ علاقے سے ہے۔ ان کے انٹرویو کا متن ذیل میں دیا جا رہا ہے:-

س: کرنل صاحب آپ کتنے لوگ تھے اور کہاں جا رہے تھے؟

ج: ہم لدھا جا رہے تھے، میں تو جا نہیں رہا تھا باقی لوگ تھے۔ میں تو پیچھے سے آیا تھا اور یہ لوگ ہیں صرف راشن لے کر جا رہے تھے۔ اور اس کا کوئی مقصد نہیں تھا۔

لیفٹیننٹ فرخ
فوج میں چین آف کمانڈ چلتی ہے۔ ہمیں جو حکم ملتا رہا ہم وہ کرتے رہے: لیفٹیننٹ فرخ
س: کتنے جوان تھے؟

ج: چالیس کے قریب بندے تھے جنہوں نے راشن لے کر جانا تھا۔

س: مگر یہ تین سو کیسے پکڑے گئے؟

ج: نہیں جی، وہ تو لوگ رستے میں ہوتے ہیں، پروٹیکشن کے لیے ہوتے ہیں۔ وہ سارے جا تو نہیں رہے تھے آگے۔

س: آپ لوگوں کو علم نہیں تھا کہ یہ صورت حال ہے اس وقت علاقے میں راشن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا خطرناک ہو سکتا ہے؟

ج: جی میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

للیفٹنٹ فرخ منصور وہ تیسرے فوجی ہیں جن سے طالبان نے بی بی سی کو بات کرنے کی اجازت دی۔ وہ صوبہ سرحد کے دورا افتادہ بٹگرام ضلع سے ہیں اور غیرشادی شدہ ہیں۔ ان کی اسی ماہ ترقی ہونی تھی۔ ایک مختصر انٹرویو میں ان کا کہنا تھا:-

سوال: یہ کیسے ہوگیا؟

جواب: فوج میں چین آف کمانڈ چلتی ہے۔ ہمیں جو حکم ملتا رہا ہم وہ کرتے رہے۔

س: طالبان کا آپ سے رویہ کیسا ہے؟

ج: میں خود بھی قبائلی ہوں، لہذا ابھی تک انہیں کوئی شکایت نہیں ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں ہم قید میں ہیں۔

طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
نقل مکانی(فائل فوٹو)’کوئی مدد نہیں کرتا‘
میر علی سے نقل مکانی کرنے والے شخص کا بیان
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
وزیرستان’ہرشخص طالب ہے‘
’فوج نہ ہٹائی گئی تو امن کا قیام ناممکن ہے‘
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسد درانی’غلط حکمتِ عملی‘
’اپنے لوگوں پر گولی چلانا بہت مشکل ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد