’اپنے لوگوں پرگولی چلانا بہت مشکل کام ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کا کہنا ہے کہ اپنے لوگوں پر گولی چلانا بہت مشکل کام ہے اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کا جنگ لڑنا اس لیے مشکل ہے کہ وہاں ان کے دشمن ان کے اپنے لوگ ہیں۔ بی بی سی اردو کے عمر آفریدی سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں کامیابی کی صورت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے اور قبائلی نطام کو استعمال کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کو کئی سال ہوگئے ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ ماننا پڑےگا کہ غلطیاں ہوئی ہیں اور اس میں اطلاعات کی بھی کمی ہو سکتی ہے لیکن میرے مطابق شروع سے جو طریقۂ واردات اختیار کیا گیا وہی غلط تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ’تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس علاقے میں آپ فوجی ایکشن کے ساتھ حالات پر قابو نہیں پا سکتے۔ نوے سال انگریزوں نے بھی کوشش کی لیکن ناکام ہو کر نکلے۔ ہمیں بھی چار پانچ سال میں نطر آ رہا تھا کہ یہ غلط ہے۔ جہاں تک عسکری حکمتِ عملی کی بات ہے وہ تو یقیناً صحیح نہیں ہے‘۔ اس سوال پر کہ یہ کارروائی کیا بیرونی دباؤ پر شروع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جن افراد نے اس آپریشن کا فیصلہ کیا انہیں اندازہ نہیں تھا اور جب انہیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے بات نہ مانی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا کہ’یہ بات صحیح ہے کہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ہم نے بہت جلدی کی۔اگر ہم بیرونی دباؤ کے باوجود صبر دکھاتے اور قبائلی نظام کو استعمال کرتے تو یہ جو چار پانچ سال میں حالت ہے یہ نہ ہوتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’مقامی قبائلی جانتے ہیں کہ اس علاقے میں جس قسم کے بھی حالات ہوں ان سے کیسے نمٹنا ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ جب بھی بات چیت کی کوشش کی گئی تو پانچ چھ ماہ کے لیے امن ہوگیا لیکن اس کے بعد جب دباؤ یا گھبراہٹ میں جب طاقت دوبارہ استعمال کی تو حالات خراب ہوگئے‘۔ اس سوال پر کہ قبائلیوں اور حکومت کے درمیان ہونے والے امن معاہدوں کی ناکامی کی وجہ کیا ہے لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی نے کہا کہ اب تک یہ دیکھا گیا ہے کہ امن معاہدوں میں جو بھی شرائط رکھی جاتی ہیں ان کی خلاف ورزی سرکار کی جانب سے ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں وزیرستان:جھڑپیں جاری، ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان وزیرستان:’درجنوں شہری ہلاک، 50 فوجی لاپتہ‘08 October, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں جھڑپیں جاری08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||