وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور پاکستانی طالبان کے درمیان سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک پنتالیس پاکستانی فوجی اور ایک سو تیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان نے شمالی وزیرستان میں پچاس فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی اور پیر کی شب تک ان میں سے پچیس فوجیوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ علاقے کے دورے پر گئے ہوئے ایک صحافی کے مطابق جھڑپوں میں کم سے کم باون شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔ ایک ترجمان کے مطابق یہ فوجی اس وقت لاپتہ ہوئے جب شدت پسندوں نے میر علی کے قصبے کے قریب واقع سکیورٹی چیک پوسٹ اور گشت پر مامور فوجی ٹیم پر حملہ کیا۔ میر علی جانے والے صحافی احسان اللہ داوڑ نے پیر کو بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب میر علی کے ایک سب ڈویژن سے آتے ہوئے ایک قافلے پر حملہ ہوا۔ان کے بقول جب وہ مقامی جرگے کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے تو انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کم و بیش دس گاڑیاں دیکھیں جو راکٹ لگنے سےمکمل تباہ ہو چکی تھیں۔ مقامی لوگوں نے صحافی کو بتایا کہ جھڑپیں بہت خوفناک تھیں اور ساری رات فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔
احسان اللہ داوڑ نے مزید بتایا کہ جرگے نے فریقین سے فائرنگ روکنے کو کہا تا کہ وہاں سے لاشیں نکالی جا سکیں۔ ان کے مطابق انہوں نے حسو خیل کے قریب ایک مقام پر سکیورٹی اہلکاروں کی چودہ اور خوشحالی کے مقام پر کم و بیش تیس لاشیں دیکھیں۔ فائرنگ رکنے پر یہ لاشیں سکیورٹی فورسز کے حوالے کی گئیں۔ صحافی نے بتایا کہ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو دنوں کی لڑائی میں کم سے کم باون شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنے گھروں پر بم گرنے سے ہلاک ہوئے۔ دریں اثناء سنیچر سے جاری جھڑپوں میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان کے ساتھ لڑائی میں شدت ایسے وقت ہوئی ہے جب لیفٹینٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بیس اہلکار جبکہ اسی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان احمد اللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ حکام کے مطابق تحصیل میرعلی کے مختلف علاقوں باڑوخیل، مسکی، ایسو خیل، خوشحالی اور حیدر خیل میں ساری رات شدید لڑائی جاری رہی جبکہ میرانشاہ میں بھی کئی فوجی چوکیوں پر حملے کیےگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل میر علی میں شدید گولہ باری کے نتیجہ میں بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس سے وسیع علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے میرعلی میرانشاہ اور میرعلی بنوں شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ میرعلی میں بازار بھی گزشتہ روز سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دو دن پہلے مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔ |
اسی بارے میں وزیرستان:’درجنوں شہری ہلاک، 50 فوجی لاپتہ‘08 October, 2007 | پاکستان کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں04 October, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دس اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر ایک اور حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان وزیرستان: سکیورٹی فورسز پرحملے30 September, 2007 | پاکستان دھماکہ اور جھڑپیں، بائیس ہلاک04 August, 2007 | پاکستان سکیورٹی اہلکاروں، سی ڈی سنٹرپرحملے28 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||