دھماکہ اور جھڑپیں، بائیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملے کے دوران چار سکیورٹی اہلکار اور دس شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کرم ایجنسی میں حکام نے کہا ہے کہ ایک ’خودکش حملے‘ میں آٹھ افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے ہیں۔ ۔ شمالی وزیرستان میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں دو فوجی اور فرنٹیئر کور کا ایک جوان شامل ہیں۔ اس حملے میں پانچ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں میرانشاہ سکاؤٹس ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میرانشاہ سے تقریباً دس کلومیٹر دور جنوب کی جانب تحصیل رزمک کے علاقے دوسلی میں اوب لنکی چیک پوسٹ پر رات تین بجے کے قریب نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں چودہ بلوچ رجمنٹ کے دو اہلکار موقع ہی پر ہلاک ہوگئے جبکہ شوال رائفل کے ایک اہلکار بعد ازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ حکام کے مطابق اس جھڑپ کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی سے دس شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ اس کارروائی میں راکٹ، مارٹر اور دیگر اسلحہ استعمال کیا گیا۔
کرم ایجنسی میں ’خودکش‘ حملہ: کرم ایجنسی سے سرکاری ذرائع کے مطابق مبینہ خودکش حملہ سنیچر کی صبح گیارہ بجے صدر مقام پارہ چنار میں واقع مصروف ترین علاقے صدہ پارہ چنار بس سٹینڈ کے قریب ہوا۔ کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ صاحبزادہ انیس الرحمن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا دیا جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ زخمیوں کو پارہ چنار ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پارہ چنار کے ایک اہلکار لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال چھ لاشیں ہسپتال پہنچائی گئی ہیں جبکہ تیس سے زائد زخمی ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے کے فوری بعد اعلیٰ سرکاری اور فوجی حکام نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر مرکزی شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند کردی ہے۔ کرم ایجنسی میں اس سال اپریل میں فرقہ وارانہ تشدد میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے کو فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم15 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان، تین ہلاک13 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: مغوی اہلکار رہا23 May, 2007 | پاکستان فضائی کارروائی، اٹھارہ افراد ہلاک31 July, 2007 | پاکستان فوج پر حملے، تین اہلکار چار شہری ہلاک30 July, 2007 | پاکستان دو فوجی 35 حملہ آور ہلاک23 July, 2007 | پاکستان ’میران شاہ: تیرہ شدت پسند ہلاک‘22 July, 2007 | پاکستان سکیورٹی فورسز کی تین چوکیاں تباہ21 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||