وزیرستان:درجنوں ہلاکتوں کے متضاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات مِل رہی ہیں اور فریقین ایک دوسرے کے نقصان کے بارے میں متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے گزشتہ رات کو طالبان کے حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی جس میں تحصیل میر علی کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ’ساٹھ کے قریب حملہ آور ہلاک ہو گئے‘۔
طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکام کے ان دعووں کی تردید کی اور کہا کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ فوج کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب سے نقصان ہوا ہے لیکن زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوا ہے۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور بازار اور سڑکیں بند ہیں۔ لوگ غربت سے مر رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے رات گئے میرانشاہ اور میر علی میں کارروائی شروع کی ہے۔ ان علاقوں کے رہائشی وہاں شدید لڑائی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے پر گولے برسا رہے ہیں اور حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ان جھڑپوں میں عام لوگوں کا بھی بہت زیاہ نقصان ہوا ہے۔ دو تین گھروں پرگولے گرنے سے کچھ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کی خبریں بھی ملی ہیں۔ مقامی لوگ دو علاقوں میں سات کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اور کافی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتالوں تک منتقل کرنا مشکل ہے۔ اس سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے دس افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد جوابی میں ’تیس شر پسند‘ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ وحید ارشد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کی صرف دو ایجنسیوں میں حالات خراب ہیں۔
میجر جنرل ارشد نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے سرحد پار افغانستان میں رہنے والوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور ان کے لیے یہاں کے لوگوں کی ہمدردیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں اسلحے کی کوئی کمی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پاکستان میں فوج نے بہت کام کیا ہے اور حالات ان کے قابو میں لیکن افغانستان میں غیر ملکی افواج ناکام رہی ہیں اور اس کا اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ مقامی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہیں کیا گیا تو وہ حملوں میں مزید تیزی لائیں گے۔ |
اسی بارے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں04 October, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دس اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر ایک اور حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان وزیرستان: سکیورٹی فورسز پرحملے30 September, 2007 | پاکستان دھماکہ اور جھڑپیں، بائیس ہلاک04 August, 2007 | پاکستان سکیورٹی اہلکاروں، سی ڈی سنٹرپرحملے28 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||