BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 October, 2007, 19:22 GMT 00:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان:درجنوں ہلاکتوں کے متضاد دعوے

وزیرستان میں فوجی(فائل فوٹو)
مقامی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہیں کیا گیا تو وہ حملوں میں مزید تیزی لائیں گے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات مِل رہی ہیں اور فریقین ایک دوسرے کے نقصان کے بارے میں متضاد دعوے کر رہے ہیں۔

مقامی حکام نے بتایا کہ اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے گزشتہ رات کو طالبان کے حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی جس میں تحصیل میر علی کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ’ساٹھ کے قریب حملہ آور ہلاک ہو گئے‘۔

حقیقت کیا ہے
 دونوں جانب سے نقصان ہوا ہے لیکن زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوا ہے۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور بازار اور سڑکیں بند ہیں۔ لوگ غربت سے مر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکام کے ان دعووں کی تردید کی اور کہا کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ فوج کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب سے نقصان ہوا ہے لیکن زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوا ہے۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور بازار اور سڑکیں بند ہیں۔ لوگ غربت سے مر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے رات گئے میرانشاہ اور میر علی میں کارروائی شروع کی ہے۔ ان علاقوں کے رہائشی وہاں شدید لڑائی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے پر گولے برسا رہے ہیں اور حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ان جھڑپوں میں عام لوگوں کا بھی بہت زیاہ نقصان ہوا ہے۔ دو تین گھروں پرگولے گرنے سے کچھ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کی خبریں بھی ملی ہیں۔ مقامی لوگ دو علاقوں میں سات کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اور کافی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتالوں تک منتقل کرنا مشکل ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے دس افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد جوابی میں ’تیس شر پسند‘ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

وحید ارشد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کی صرف دو ایجنسیوں میں حالات خراب ہیں۔

مسئلہ افغانستان میں
 افغانستان میں حالات ٹھیک ہوں گے تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ کوئی نظام الاوقات نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی پاکستانی فوج حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
وحید ارشد
انہوں نے کہا کہ مسئلہ افغانستان میں ہے جہاں غیر ملکی کارروائی کے نتیجے میں طالبان پاکستان کے علاقوں میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اپنے لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ باہر سے آنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں حالات ٹھیک ہوں گے تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ کوئی نظام الاوقات نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی پاکستانی فوج حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

میجر جنرل ارشد نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے سرحد پار افغانستان میں رہنے والوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور ان کے لیے یہاں کے لوگوں کی ہمدردیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں اسلحے کی کوئی کمی نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پاکستان میں فوج نے بہت کام کیا ہے اور حالات ان کے قابو میں لیکن افغانستان میں غیر ملکی افواج ناکام رہی ہیں اور اس کا اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ مقامی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہیں کیا گیا تو وہ حملوں میں مزید تیزی لائیں گے۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک
13 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد