BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 October, 2007, 04:21 GMT 09:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان میں جھڑپیں جاری

پاکستان آرمی (فائل فوٹو)
سکیورٹی فورسز جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹراستعمال کر رہی ہیں
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور پاکستانی طالبان کے درمیان سنیچر کی رات سے شروع ہونیوالا جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

سکیورٹی فورسز طالبان کے خلاف کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ فائٹر جیٹ طیاروں کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بیس اہلکار جبکہ پینسٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم طالبان کے ترجمان احمد اللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

معاہدہ ٹوٹ گیا
 شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں

میر علی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران عام لوگوں کے گھروں پر بم گرے ہیں، جس سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونیوالوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق تحصیل میرعلی کے مختلف علاقوں باڑوخیل، مسکی، ایسو خیل، خوشحالی اور حیدر خیل میں ساری رات شدید لڑائی جاری رہی جبکہ میرانشاہ میں بھی کئی فوجی چوکیوں پر حملے کیےگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تحصیل میر علی میں شدید گولہ باری کے نتیجہ میں بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس سے وسیع علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے میرعلی میرانشاہ اور میرعلی بنوں شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ میرعلی میں بازار بھی گزشتہ روز سے بند پڑے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دو دن پہلے مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک
13 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد