’ہر قبائلی اب ایک طالب بن چکا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی میں سکیورٹی فورسز اور مبینہ مقامی طالبان کے درمیان گزشتہ تین روز سے جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے نو افراد بھی شامل ہیں۔اس خاندان کے سربراہ شیرخان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے ہر قبائلی شخص اب ایک طالب بن چکا ہے‘۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے شیرخان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز وہ مسجد میں عصر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ پانچ سو گز کے فاصلے پر واقع سکاؤٹس کے ایک قلعے سے ان کے گھر اور مسجد پر مارٹر گولوں سے حملہ ہوا اور کئی گولے ان کے گھر پر لگے جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کی چار خواتین، دو بچے اور تین بچیاں ہلاک ہوگئیں جبکہ تیرہ افراد زخمی ہوئے۔ شیر خان کا دعوٰی ہے کہ منگل کی دوپہر سے میر علی میں ان کے گھر کے آس پاس مختلف دیہات پر پاکستانی فوج کی بمباری اور توپوں کے حملے جاری ہیں اور سے لوگ خوف کی وجہ سے نقل مکانی بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق’علاقے میں تین دن سے بجلی نہیں ہے، ٹھنڈا پانی دستیاب نہیں ہے جبکہ بازار بند ہیں اور لوگوں کو اشیائے خودرونوش خریدنے میں دشواری پیش آ رہی ہے‘۔ شیر خان نے دعوٰی کیا کہ اس گولہ باری میں ایک مارٹر گولہ مقامی مسجد پر بھی گرا جس سے مسجد کے سامنے والی دیوار مکمل طور پر تباہ ہوگئی تاہم وہاں موجود تقریباً تیس نمازی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ گزشتہ برس بھی سکیورٹی فورسز نے انکے گھر پر تین راکٹ فائر کیے تھے جس کے نتیجے میں گھر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ سکیورٹی فورسز کیوں ان کے گھر کو بار بار حملے کا نشانہ بنا رہی ہیں شیر خان کا کہنا تھا کہ’میں نے ایف سی کمانڈنٹ سے ملاقات کر کے یہی شکایت کی تو ان کا کہنا تھا کہ آپ کے گھر سے سکاؤٹس قلعے پر راکٹ داغے جاتے ہیں لہٰذا آپ گھر چھوڑ کر یہاں سے چلے جائیں لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میرے گھر سے قلعہ پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے‘۔ شیر خان کے بقول انکو ایک ماہ قبل بھی حکومت کی طرف سے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم انہوں نے یہ کہہ کر نقل مکانی سے انکار کیا تھا کہ ان پر لگائے گئے حکومتی الزامات غلط ہیں اور وہ صدیوں سے آباد اپنے آباؤ اجداد کی زمین کو چھوڑ کر مہاجر بننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ علاقے میں مقامی طالبان سرگرم ہیں جو بقول حکومت کے مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر ملکی ساکھ متاثر ہو رہی ہے تو شیرخان کا کہنا تھا ’ہاں یہاں وزیرستان میں حکومتی ظلم و تشدد کے نتیجے میں ہر شخص طالب بن چکا ہے اور میں بھی طالب ہوں۔ پاکستانی فوج کو قبائلی علاقوں سے بیدخل کرکے اس سے پاک افغان سرحد پر تعینات کیا جانا چاہیے اگر ایسا نہیں ہوتا تو علاقے میں امن لانا ناممکن ہو جائے گا‘۔ |
اسی بارے میں 200 ہلاک، سینکڑوں علاقہ چھوڑ گئے09 October, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، عارضی فائربندی09 October, 2007 | پاکستان وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||