BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 19:02 GMT 00:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحصیل میر علی سے آگے کیا ہے؟

نیو یارک کے جڑواں ٹاور
امریکہ اسامہ بن لادن کو نائن الیون حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور وہ بھی اس پر خوش ہوتے ہیں
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اسی سال دسمبر میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں تورا بورا کی پہاڑیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا لیکن اسامہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ اپنے پہاڑی سرحدی علاقوں میں سکیورٹی سخت کرے۔

یوں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد، پہلی بار جولائی دو ہزار دو میں پاکستانی افواج، پہلے خیبر ایجنسی اور پھر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں داخل ہوئیں۔ قبائلیوں میں فوج کی آمد کو اپنے روایتی سماجی و سیاسی نظام میں کھلی مداخلت تعبیر کیا گیا۔ فوج نے بااثر قبائلی سرداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان سے روڈ رستوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں کے وعدے کیے۔

لیکن جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن میں جوں جوں تیزی آتی گئی، عام لوگوں کی ہلاکتیں بھی بڑھتی گئیں۔ مقامی قبائلیوں میں فوج کے خلاف غم و غصہ بڑھتا گیا۔ ان حالات نے آئندہ دو برس کے اندر مقامی عمائدین اور پاکستانی فوج کے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ کی شکل اختیار کرلی۔

ایسے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھتے بڑھتے اسی ہزار تک جا پہنچی۔

مارچ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کا بڑا شہر وانا کئی سو مسلح شدت پسندوں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بنا۔ اس لڑائی نے شہر وانا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور بے شمار لوگ مارے گئے۔

پاکستانی فوج بگڑتے حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لائی اور اسی سال اپریل دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان میں پہلا امن معاہدہ عمل میں آیا۔ دوسرا امن معاہدہ ہ فروری دو ہزار پانچ میں طے پایا۔ یہ معاہدے عارضی طور پر شدت پسندی اور انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے موثر سمجھے گئے لیکن بعد کے پُرتشدد حالات نے ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے۔

ڈمہ ڈولا میں 18 شہری ہلاک ہوئے
News image
 جنوری دو ہزار چھ میں امریکہ نے خود پاکستان کی حدود کے اندر باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولا پر مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانے پر حملہ کیے۔ اس حملے کے نتیجے میں اٹھارہ عام شہری مارے گئے
ڈمہ ڈولا

امریکہ اس دوران جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھاتا گیا کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خاتمے کے لیے مذید اقدامات کرے۔ جنوری دو ہزار چھ میں امریکہ نے خود پاکستان کی حدود کے اندر باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولا پر مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانے پر حملہ کیے۔ اس حملے کے نتیجے میں اٹھارہ عام شہری مارے گئے۔

اس دوران قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ فوج پر شدت پسندوں کے حملے بھی بڑھتے گئے۔
ستمبر دو ہزار چھ میں میران شاہ میں شمالی وزیرستان امن معاہدہ ہ عمل میں آیا۔افغانستان نے اس پر شدید اعتراض کیا، امریکہ نے اپنے گہرے تحفظات ظاہر کیے لیکن صدر جنرل مشرف نے اس کا بھرپور دفاع کیا۔

اکتوبر دو ہزار چھ میں فوج نے باجوڑ کے ایک مدرسہ پر میزائل سے حملہ کیا۔ اس حملے میں مدرسے کے درجنوں طلبا مارے گئے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ حملہ پاکستانی فوج نے نہیں امریکیوں نے کیا۔ لیکن پاکستانی فوج کا موقف رہا کہ حملہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیا گیا تھا کہ وہاں شدت پسند زیرِ تربیت تھے۔آنے والے دنوں میں، امن معاہدوں سے قطع نظر، فوج اور شدت پسندوں کے درمیان چھڑپیں جاری رہیں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور چیک پوسٹوں پر خودکش حملوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

بالآخر اس سال جولائی دوہزار سات میں مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر ڈالا۔ حکومت نے جرگے کے ذریعے معاہدے کو بچانے کے لیے کوششیں کیں لیکن بظاہر یہ کاوشیں کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔

اکتوبردو ہزار سات میں شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان اب تک کی سب سے خونی لڑائی کا میدان بن کر ابھرتی ہے جس میں تا حال کم از کم دو سو لوگوں کے مارے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اتحادی فوج اور نیٹو دستےاتحادیوں کا جواز
’طافغان شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘
سردی اور طالبان
کیا نیٹو کی حکمت عملی واقعی نئی ہے؟
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
طالبان ختم۔۔۔؟
کیا شدت پسند تحریک ختم ہو گئی ہے؟
طالبانکچھ غلطیاں ہوئیں
طالبان اعتراف کرتےہیں کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں
طالبانطالبان کا ’زور‘
طالبان انتخابات میں طاقت دکھانا چاہتے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد