’طیارے بم برسا کر چلے گئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ تین دنوں سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور اس کے گرد و نواح میں جاری صورتحال کے بارے میں مندرجہ ذیل بیان وہاں کے ایک رہائشی حافظ عبدالستار کا ہے۔ اگر آپ یا آپ کوئی عزیز متاثرہ علاقے میں ہے اور وہاں کے حالات بیان کرنا چاہتا ہے تو ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے۔ ’’ہمارا گاؤں میر علی شہر سے تقرباً ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے۔ ہماری بستی میں قیامت کا منظر ہے۔ میر علی میں کرفیو لگا ہوا ہے، بازار بند ہے اور کوئی ٹرانسپورٹ نہیں۔ لوگ اپنے زخمی بچوں کو لیے کھیتوں کے راستے ہسپتال پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (سنیچر کی) رات ڈھائی بجے لڑاکا طیارے آئے اور چار بم برسا کر چلے گئے۔ ایک بم ہمارے گاؤں کے چھوٹے سے بازار میں گرا جہاں چھوٹے بچے سودا سلف لینے گئے ہوئے تھے، وہ سب زخمی ہو گئے۔ کسی کا ہاتھ نہیں رہا تو کسی کا پاؤں نہیں بچا۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً تین ہزار گھر ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی غیر ملکی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود لڑاکا طیاروں نے ہمارے گاؤں اور ارد گرد کی بستیوں پر کم از کم دس بارہ بم پھینکے ہیں۔ ان حملوں میں ہمارے علاقے میں پچاس سے زیادہ عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بستی میں گاڑیوں کے اڈّے پر کھڑے تھے۔ اس وقت مکمل کرفیو ہے اس لیے مجھے نہیں پتہ کہ میر علی کے بازار میں کوئی فوجی ہیں یا نہیں۔ مشرف اور (فوج کے ترجمان) وحید ارشد اسلام آباد میں بیٹھ کر جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی غیر ملکی نہیں، یہاں مرنے والے معصوم بچے اور عورتیں ہیں۔ اگر آپ کوئی یقین نہیں تو حکومت یہاں میڈیا کو بھیج کر تصدیق کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں یہاں غیر ملکی ہیں۔ یہ رمضان کا مہینہ ہے، (ہم جھوٹ نہیں بولتے)اگر یہاں کوئی غیر ملکی ہوتا تو ہم خود اسے پکڑ کر حکومت کے حوالے کر دیتے۔‘‘ |
اسی بارے میں وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں جھڑپیں جاری08 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||