BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آغاز وزیرستان، انجام کیا؟

خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ایک سابق جاسوس سربراہ ایسی اہم تبدیلیوں کو زیادہ موثر طور پر عملی جامہ پہنا سکے
ویسے تو پاکستانی فوج میں وائس چیف آف آرمی سٹاف محض ایک رسمی سا عہدہ ہوتا ہے جس کا مقصد سیاست میں ملوث فوجی سربراہ کو اس تنقید سے بچانا ہوتا کہ ان کی سیاست کی وجہ سے فوج کے پیشہ وارانہ امور متاثر ہو رہے ہیں۔

اس سے ہٹ کر نہ تو وائس چیف اپنی مرضی سے تقرریاں اور تبادلے کر سکتا ہے، نہ ہی وہ کسی قسم کے فوجی آپریشن کا حصہ ہوتا ہے اور نہ ہی اسلحے اور دیگر فوجی سازوسامان کی ترسیل میں اس کا کوئی کردار ہوتا ہے۔

لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بطور وائس چیف تقرری خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ ایک آرمی چیف کی موجودگی میں ہی ان کا جانشین یہ کہہ کر مقرر کیا جائے کہ چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ان کا عہدہ سنبھالیں گے۔

ان کی تقرری کے وقت پاکستان میں عمومی رائے یہی تھی کہ جنرل کیانی خود کو یقیناً بہت خوش قسمت سمجھ رہے ہونگے کہ انہیں آرمی چیف بننے سے پہلے ہی یہ پتا ہے کہ پاکستان کا یہ اہم ترین عہدہ ان کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔

لیکن اس وقت جنرل کیانی کی اپنی سوچ شاید اس سے قطعی مختلف ہو۔ ہو سکتا ہے ان کو رہ رہ کر یہ خیال آرہا ہو کہ ان کے نئے عہدے کا آغاز اگر ایسا ہے تو انجام نجانے کیا ہوگا۔

تین سالہ جنگ
 جنرل کیانی کے عہدہ سنبھالتے ہی وزیرستان میں مقامی طالبان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز میں جاری تین سالہ جنگ نے ایسی شدت اختیار کی جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

جنرل کیانی کے عہدہ سنبھالتے ہی وزیرستان میں مقامی طالبان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز میں جاری تین سالہ جنگ نے ایسی شدت اختیار کی جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

لیکن یہ جنرل کیانی کو آنے والے وقتوں میں درپیش چیلنجز کا محض ایک حصہ ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے انتخابات سے کچھ ماہ پہلے ہی ایوان اقتدار سے ایسے اشارے ملنے شروع ہو گئے تھے کہ امریکہ کی تجویز کردہ حکمت عملی کے مطابق وزیرستان میں پاکستان کی مصالحتی پالیسی ترک کر کے مقامی طالبان اور ان کے غیر ملکی مہمانوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان پچھلے تین برس سے اپنے مغربی حلیفوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش میں ہے کہ وزیرستان کی صورتحال کو صرف اور صرف مفاہمت کے ذریعے سنبھالا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کی یہ دلیل چند ماہ پہلے تیزی سے وزن کھونے لگی جب قبائلی جنگجوؤں کی جانب سے اسلام آباد سمیت نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملے ہونا شروع ہو گئے بلکہ قبائلی علاقوں کے اندر بڑی تعداد میں پاکستانی سکیورٹی اہلکار اغوا ہونے لگے۔

اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملے ہونا شروع ہو گئے

اسلام آباد میں مغربی سفارتکاروں کے مطابق طالبان کی ان کارروائیوں نے صدر مشرف کے مغربی حلیفوں کو پاکستان سے پرزور مطالبہ کرنے کا موقع دیا کہ ان کی افہام و تفہیم کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اب فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ ان سفارتکاروں کے مطابق صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے ارادوں اور ان میں حائل آئینی مشکلات نے ان کو سیاسی طور پر اتنا کمزور کر رکھا تھا کہ ان کے مغربی حلیف تین سال کی کوشش کے بعد آخرکار اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو گئے۔

پچھلے تین دنوں میں ہونے والی شدید جھڑپیں اسی امر کا عندیہ دیتی ہیں کہ یہ جنگ اب بھڑک اٹھی ہے اور آنے والے وقتوں میں مزید زور پکڑ سکتی ہے۔ اور اگر وسط نومبر تک صدر مشرف خود فوج چھوڑ کر اس کی سربراہی جنرل کیانی کے حوالے کرتے ہیں تو وزیرستان ان کے دور قیادت کا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ ان کا واحد چیلنج نہیں ہوگا۔

سرحدی علاقوں اور داخلی صورتحال کے علاوہ وہ اپنے سابق باس کی سویلین سیاست کے پہریدار بھی ہونگے۔ پچھلے دنوں سابق وائس چیف جنرل احسن سلیم حیات اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق کی الوداعی دعوتوں میں جنرل مشرف نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ان کے اور جنرل کیانی کے خیالات میں کوئی فرق نہیں۔

دراڑیں
 آئیندہ عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ سیاسی صورتحال جنرل مشرف اور جنرل کیانی کی ذہنی ہم آہنگی میں دراڑیں ڈال سکتی ہے
مبصرین

تاہم ابھی جنرل مشرف کی سویلین سیاست کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا اور پاکستانی مبصرین کے مطابق آئندہ عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ سیاسی صورتحال جنرل مشرف اور جنرل کیانی کی ذہنی ہم آہنگی میں دراڑیں ڈال سکتی ہے۔

اسی طرح انتظامی امور میں بھی جنرل کیانی فوج میں اہم تبدیلیوں کے محرک ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے ایوان اقتدار میں کافی عرصے سے یہ بات چل رہی ہے کہ فوج کے انتظامی ڈھانچے کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں دو مجوزہ تبدیلیاں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔

پہلی تو یہ ہے کہ فوج کو باقاعدہ شمالی اور جنوبی کمانڈز میں بانٹ دیا جائے۔ گو یہ تـجویز کئی سال پرانی ہے لیکن پچھلے چند ماہ میں اس پر نئے سرے سے غور ہوا ہے گو ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ فوجی حلقوں کے مطابق اس سے شمالی کمان کو جارہانہ کاروائیوں اور جنوبی کمان کو دفاعی حربوں پر مرکوز کیا جا سکے گا جس سے اس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو مزید ابھارا جا سکے گا۔

دوسری تبدیلی کا تعلق ملک کے نیشنل سکیورٹی کے موجودہ ڈھانچے سے ہے۔ فوج کے پالیسی ساز حلقوں میں آجکل اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے موجودہ غیر فعال ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر کے اسے ایک نئی سربراہی دی جائے جو ملک کے تمام فوجی اور سول انٹیلیجنس اداروں پر مکمل طور سے قادر ہو۔

گو ان تجاویز پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن فوجی حلقوں میں ایک سابق انٹیلیجنس چیف کو آرمی چیف کے عہدے پر نامزد کرنے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ایک سابق جاسوس سربراہ ایسی اہم تبدیلیوں کو زیادہ مؤثر طور پر عملی جامہ پہنا سکے۔

ان حالات کے پیش نظر، میدان چاہے عسکری ہو، سیاسی یا انتظامی، جنرل کیانی کو اپنے دور قیادت میں کوئی پل کا آرام ملنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
جنرل مشرفچیف جسٹس فیصلہ
’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد