200 ہلاک،سینکڑوں کی نقل مکانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان تین روز سے جاری لڑائی میں ابتک دو سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑائی میں 150 کے قریب جنگجو اور 45 کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کر گئے ہیں۔ علاقے میں لڑائی اتنی شدید تھی کہ کئی مکان تباہ ہو گئے اور عام شہری بھی گولہ باری کی زد میں آئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے میر علی کے ایک رہائشی نے کہا: ’ہمارے گھر بری طرح تباہ ہو چکے ہیں اور زیادہ تر خاندان قریبی شہروں میں رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔‘ ادارے کے مطابق مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ فوج عام شہریوں کے گھروں پر حملے نہ کرے۔ تحصیل میر علی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایسو خیل، خوشحالی، باروخیل، شہباز خیل اور میلاگان شامل ہیں۔ میر علی کے ایک رہائشی شیر خان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ میر علی کے اسی سے نوے فیصد خاندان شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ہر گھر میں بس دو یا تین افراد ہی بچے ہیں جو گھر کی چیزوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ دریں اثناء اس قسم کی بھی اطلاعات ہیں کہ تحصیل میرعلی میں قبائلی عمائدین کا جرگہ سکیورٹی فورسز اور مقامی جنگجو طالبان کے درمیان تین دن سے جاری لڑائی کے بعد عارضی فائربندی کروانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ادھر پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں پیر کو لاپتہ ہونے والے پچاس فوجیوں میں سے پچیس کی لاشیں مل گئی ہیں۔
مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میرعلی سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگہ پیر کو شام گئے فائربندی میں کامیاب ہوگیا لیکن میرعلی کو جانے والے راستے بدستور بند ہیں جبکہ بنوں میرانشاہ شاہراہ بھی تاحال ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ میر علی کے علاقے میں فائر بندی کروانے والے جرگے کے ایک رکن شیر خان ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جرگے نے میر علی کے علاقے عیدک اور خوشالی سے ملنے والی پینتالیس لاشوں کو پیر کی شام میر علی سکاؤٹس کے قلعے میں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام لاشیں پاکستانی فوج کے جوانوں کی تھیں۔ شیر خان ملک نے بتایا کہ اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی لاشیں موجود ہیں اور جرگہ منگل کی صبح ان علاقوں سے لاشیں لانے کے لیے جائےگا۔ عام شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ میرعلی کے شمال میں خیسورہ اور جیلر کےعلاقوں میں اب بھی کافی لاشیں پڑی ہیں۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ لاشیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہیں یا شدت پسندوں کی۔ ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔ پاکستان فوج کے ایک ترجمان کے مطابق پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں مزید چونسٹھ شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ گزشتہ دو دن میں ساٹھ شدت پسند اور بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے پیر کو شمالی وزیرستان میں پچاس فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ترجمان کے مطابق یہ فوجی اس وقت لاپتہ ہوئے جب شدت پسندوں نے میر علی کے قصبے کے قریب واقع سکیورٹی چیک پوسٹ اور گشت پر مامور فوجی ٹیم پر حملہ کیا تھا۔ تاہم مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا نقصان ان اعدادشمار سے کہیں زیادہ ہے۔طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا بہت کم جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ عیدک اور خوشحالی میں فوجیوں کی ساٹھ لاشیں پڑی ہیں جبکہ انہوں نے فوج کی گیارہ گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے جبکہ چارگاڑیاں ان کے قبضے میں ہیں۔ عیسو خیل اور میلاگان کے رہائشیوں کے مطابق میر علی اور میران شاہ کو جوڑنے والی سڑک کے قریب کئی فوجیوں کی لاشیں پڑی ہیں جن کے گلے کاٹ دیے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں جھڑپیں جاری08 October, 2007 | پاکستان کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں04 October, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دس اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر ایک اور حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان وزیرستان: سکیورٹی فورسز پرحملے30 September, 2007 | پاکستان دھماکہ اور جھڑپیں، بائیس ہلاک04 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||