BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 01:10 GMT 06:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید ہلاکتیں، عارضی فائربندی

پاکستان آرمی (فائل فوٹو)
جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں قبائلی عمائدین کا جرگہ سکیورٹی فورسز اور مقامی جنگجو طالبان کے درمیان تین دن سے جاری لڑائی کے بعد عارضی فائربندی کروانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

ادھر پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں پیر کو لاپتہ ہونے والے پچاس فوجیوں میں سے پچیس کی لاشیں مل گئی ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میرعلی سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگہ پیر کو شام گئے فائربندی میں کامیاب ہوگیا لیکن میرعلی کو جانے والے راستے بدستور بند ہیں جبکہ بنوں میرانشاہ شاہراہ بھی تاحال ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

میر علی کے علاقے میں فائر بندی کروانے والے جرگے کے ایک رکن شیر خان ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جرگے نے میر علی کے علاقے عیدک اور خوشالی سے ملنے والی پنتالیس لاشوں کو پیر کی شام میر علی سکاؤٹس کے قلعے میں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام لاشیں پاکستانی فوج کے جوانوں کی تھیں۔ شیر خان ملک نے بتایا کہ اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی لاشیں موجود ہیں اور جرگہ منگل کی صبح ان علاقوں سے لاشیں لانے کے لیے جائےگا۔ عام شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ میرعلی کے شمال میں خیسورہ اور جیلر کےعلاقوں میں اب بھی کافی لاشیں پڑی ہیں۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ لاشیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہیں یا شدت پسندوں کی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پاکستانی طالبان کے درمیان سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک پنتالیس پاکستانی فوجی اور ایک سو تیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں مزید چونسٹھ شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ گزشتہ دو دن میں ساٹھ شدت پسند اور بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے پیر کو شمالی وزیرستان میں پچاس فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ترجمان کے مطابق یہ فوجی اس وقت لاپتہ ہوئے جب شدت پسندوں نے میر علی کے قصبے کے قریب واقع سکیورٹی چیک پوسٹ اور گشت پر مامور فوجی ٹیم پر حملہ کیا تھا۔

تاہم مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا نقصان ان اعدادشمار سے کہیں زیادہ ہے۔طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا بہت کم جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ عیدک اور خوشحالی میں فوجیوں کی ساٹھ لاشیں پڑی ہیں جبکہ انہوں نے فوج کی گیارہ گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے جبکہ چارگاڑیاں ان کے قبضے میں ہیں۔

شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دو دن پہلے مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔

اسد درانی’غلط حکمتِ عملی‘
’اپنے لوگوں پر گولی چلانا بہت مشکل ہے‘
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک
13 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد