’ کوئی ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ پانچ دن سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں سینکڑوں خاندانوں کے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہ بیان میر علی سے تعلق رکھنے والے عصمت اللہ کا ہے جو جان کی حفاظت کے پیشِ نظر اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوں پہنچے ہیں۔ ’ہم نے گھر اس لیے چھوڑا کہ ہمارے علاقے میں بہت فائرنگ ہو رہی تھی، بمباری ہو رہی تھی۔ کبھی ایف سولہ آتے تو کبھی گن شپ۔ بہت تباہی ہو رہی تھی اس لیے ہم نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ لوگ بہت پریشان تھے۔ کسی کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ بہت سے بچےگم بھی گئے جن کے لیے اعلانات ہو رہے تھے۔ لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے وہ اپنی گھڑیاں اتار کر بیچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں کچھ پیسے مل جائیں اور وہ علاقے سے نکل سکیں۔ ویسے بھی رمضان کا مہینہ ہے اور اس میں کسی دوسرے کے گھر یا جگہ جانے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔ اب ہم بنوں پہنچے ہیں تو امداد تو دور کی بات یہاں کوئی ہم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ کوئی یہاں مدد کرنے کو تیار نہیں۔ کسی بوڑھے آدمی یا کسی بچے کی کوئی مدد نہیں کر رہا۔ سب یہاں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے جو کچھ ہوا ہے وہ ہم نے کیا ہے۔ ہم تو معصوم لوگ ہیں اور ہم پر اتنا ظلم ہوا ہے۔ہم اتنی سخت تکلیف میں ہیں کہ اب برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں سینکڑوں خاندان بےگھر10 October, 2007 | پاکستان وزیرستان آپریشن روکا جائے: قاضی10 October, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، عارضی فائربندی09 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||