وزیرستان آپریشن روکا جائے: قاضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کی فوج کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی آپریشن رکوائیں۔ قاضی حسین احمد نے یہ اپیل بدھ کو لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر منصورہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں عام شہری اس کارروائی کا نشانہ بن رہے ہیں اور عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد فوجی بمباری سے ہلاک و زخمی ہوئی ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں خوف وہراس کا عالم ہے، افرتفری ہے اور ہنگامی صورتحال ہے جس سے قوم کو آگاہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کے بقول شمالی وزیرستان کی آبادی خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشانہ بننے والے علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں اور تحصیل میر علی خالی ہونے کے قریب ہے۔ قاضی کا کہنا تھا کہ جب متاثرہ علاقے کے لٹے پٹے اور زخمی لوگ دوسرے علاقوں میں پہنچیں گے تو وہاں بھی افراتفری پیدا ہوگی جس سے ملکی سالمیت کونقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا گیا اور یہ سب کچھ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اس کی ہدایت پر ہورہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے بقول بھارت کے علاوہ اب امریکہ بھی پاکستان کو توڑنے اور اسے تقسیم کرنے کے درپے ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ وہ فوج کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس آپریشن کو روکا جائے اور مصالحت کے دوسرے راستے اپنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا ہے کہ اپنے ہی عوام کے خلاف کارروائی کرنے سے خود فوج کا مورال بھی گر رہا ہے جس کے نتیجہ میں فوجی لڑنے کی بجائے بڑی تعداد میں یرغمال بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں فوج کو الجھانا ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف جماعت اسلامی ملک بھر میں جمعہ کو یوم سیاہ منائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سے فوج کو نکالا جائے۔ قاضی حسین احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوج کو اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف استعمال کرنا غیر آئینی ہے اور باجوڑ کے واقعے پر انہوں نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر رکھی ہے۔ سرحد اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ مجلس عمل نے پہلے سے کر رکھا تھا۔انہوں نے کہا وہ کسی نگران سیٹ اپ میں بھی شامل نہیں ہونا چاہتے۔انہوں نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ مجلس عمل کا اتحاد برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ |
اسی بارے میں 200 ہلاک،سینکڑوں کی نقل مکانی09 October, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، عارضی فائربندی09 October, 2007 | پاکستان وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||