سینکڑوں خاندان بےگھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان لڑائی چوتھے دن میں داخل ہوگئی ہے اور اب تک دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند طالبان اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ میر علی اور لڑائی سے متاثرہ دیگر علاقوں سے مزید سینکڑوں خاندان نقل مکانی کرنے پر بھی مجبور ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کو چارپائیوں پر ڈال کر اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتالوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ میر علی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں لڑائی منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی جاری رہی اور میر علی سکاؤٹس قلعے سے توپخانے کا بھی استعمال کیا گیا اور میرعلی کے قریب پہاڑی سلسلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جیٹ طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حیدر خیل کے علاقے کو نشانہ بنایا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ منگل کی شام ایپی کے علاقے میں شدت پسندوں کے چند ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی گئی تھی جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے استعمال ہوئے۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں پچاس شدت پسند مارے گئے ہیں۔ ادھر میر علی کی پولیٹکل انتظامیہ نے رات گئے تین دیہات کے سرداروں کو بدھ کی صبح تک علاقہ خالی کرنے کو کہا جس کے بعد ایسوڑی، حیدرخیل اور ایپی سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔ میرعلی سے تعلق رکھنے والے صحافی احسان اللہ داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ بدہ کو میرعلی سے اسی ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ میرعلی کی تمام رابط سڑکیں مکمل طور پر بند ہیں۔ میرعلی میں چار روز سے غیراعلانیہ کرفیو نافذ ہے لوگ علاقے سے نقل مکانی کرہے ہیں۔لیکن ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے لوگ چار گھنٹوں کا سفر طے کرکے اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔جہاں سے بنوں جانے والی گاڑیاں ملتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد ایسے تھے جو بیماری اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے کے قابل نہیں تھے۔اور ان کو ہاتھ ریڑیوں کی مدد سے لے جایا جارہا تھا۔ میرعلی کے ایک اور باشندے جعفر نے کہا کہ توپوں کی گن گرج اور جنگی طیاروں کی بمباری سےوہ جسمانی طور مفلوج ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھاان کے بچے پر ذہنی اثر ہوا ہے۔اور وہ دو دنوں سے نیند میں بھی ڈر جاتہے ہیں اور نفسیاتی مریض ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے لیکن گزشتہ چار دنوں سے حملوں زبردست اضافہ ہوا ہے اور حالیہ لڑائی سے دو دن پہلے مقامی طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہیں کیاگیا تو سکیورٹی فوسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔ |
اسی بارے میں 200 ہلاک،سینکڑوں کی نقل مکانی09 October, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، عارضی فائربندی09 October, 2007 | پاکستان وزیرستان:ہلاکتوں میں مزید اضافہ08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||