صدارتی الیکشن، اہلکاروں کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور عدالتی سرگرمیوں کے سبب جنوبی وزیرستان سےاغوا سکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کی رہائی کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں درے محسود جرگے کےایک اہم رکن سینیٹر صالح شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے پاکستان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی اور عدالتی جنگ میں شدت آئی ہے تب سے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ہاتھوں اغواء ہونے والے سکیورٹی فورسز کے تقریباً دو سو نوے اہلکاروں کی رہائی کے سلسلے میں جرگے کی کوششوں میں تعطل آیا ہے۔ سینیٹر صالح شاہ کامزید کہنا تھا کہ’ صدارتی انتخابات کے حوالے سے جاری سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سےحکومتی مشینری مصروف ہوگئی ہے اور جرگے کے گورنر سرحد، وزیر اعلٰی اور مرکزی حکومت کے متعلقہ حکام سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’صدارتی انتخابات کی سرگرمیوں سے قبل سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی رہائی حکومت کی ترجیحات میں شامل تھی اور حکومت اس سلسلے میں دن میں تقریباً پانچ مرتبہ ہم سےرابطہ کیاکرتی تھی مگر اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم جب بھی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انکے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی جواب دے سکیں‘۔ تاہم اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےجوجرگہ تشکیل دیا ہے وہ اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور اگر وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کرناچاہتا تو ہم زبردستی ان سے کام نہیں لے سکتے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ مجھے اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ صدارتی انتخابات کی وجہ سے جرگے کی کوششیں رک گئی ہیں‘۔ سنیٹر صالح شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان جرگے کے توسط سے ہونے والی بات چیت میں کافی حد تک پیش رفت ہوچکی تھی اور طالبان نے اس سلسلے میں فوجی قافلوں کی آمدو رفت کے لیے وانا اور جنڈولہ کا راستہ کھول دیا ہے جبکہ لدہ، سرہ روغہ اور تیارزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کو راشن پہنچانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی ان اقدامات کی جواب میں حکومت نے سروند، شین سر، غوٹ سر اور نواز کوٹ کے علاقے سے سکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر ہٹا دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سنیٹر صالح شاہ نے کہا کہ اگر صدارتی انتخابات کے حوالے سے سرگرمیاں طول پکڑتی ہیں تو وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اس کا طالبان کے زیرحراست سکیورٹی فورسز کے ان اہلکاروں کی زندگیوں پرکوئی اثر پڑ بھی سکتا ہے یا نہیں تاہم ان کے بقول ان اہلکاروں کی قبائلی روایات کے مطابق ہرلحاظ سےخدمت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز کے تین سو سے زائد اہلکاروں کو اکتیس اگست کو مقامی طالبان نےجنوبی وزیرستان کے علاقے لدہ سے اغوا کیا تھا جن میں سے بتیس کو بعد میں جرگے کی کوششوں سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت رہا کردیا گیا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: مزید پچیس فوجی رہا21 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: اہلکار رہا نہ ہو سکے19 September, 2007 | پاکستان ’ایک ایک پل موت کو دیکھا ہے‘22 September, 2007 | پاکستان ایف سی کے سات اہلکار اغوا19 September, 2007 | پاکستان مہمند ایجنسی، معاہدے پر دستخط15 September, 2007 | پاکستان کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دس اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||