وزیرستان: اہلکار رہا نہ ہو سکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان اہلکاروں کو سب ڈویژن سروکئی کے مقام پر مقامی طالبان نے درے محسود قبائل کے ایک جرگے کے حوالے کرنا تھا۔ جرگے کے مطابق تعداد کے اختلاف پر سب ڈویژن لدھا سے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فو رسز کے تقریباً تین سو اہلکاروں میں سے کچھ اہلکاروں کی رہائی ممکن نہ ہوسکی۔ جرگے کے ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں دس اہلکاروں کی رہائی جرگے کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ جرگے کا مطالبہ تھا کہ ایک سو سے زائد اہلکاروں کو بدھ کو ہی رہا کیا جانا ہوگا لیکن طالبان سو سے زائد اہلکاروں کی رہائی کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے جرگہ اگلے دو دن کے لیے ملتوی کردیاگیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے طالبان کے ایک مطالبے کو مان لیا ہے۔ ان کے مطابق علاقہ محسود میں دو مقامات سے فوج کی دو چوکیوں کو گزشتہ روز خالی کر دیاگیا ہے جن میں علاقہ بروند کی شین سر چوکی اور تیارزہ میں غٹ سر چوکی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل مکین میں نوازکوٹ چوکی کو بھی ایک دو دن میں خالی کردیا جائےگا۔ یاد رہے کہ تیس اگست کو سکیورٹی فورسز کے تقریباً تین سو اہلکاروں کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے لدھا سے اغواء کیا تھا جن میں سے چھ اہلکار ایک ہفتہ قبل خیر سگالی کے طور پر رہا کیے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: چھ مغوی اہلکار رہا05 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: انیس مغوی اہلکار رہا28 August, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: دس اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: اہلکار ابھی تک لاپتہ31 August, 2007 | پاکستان 18 اہلکاروں کی لاشیں مل گئیں18 September, 2007 | پاکستان بنوں: ایف سی کے گیارہ اہلکار رہا14 September, 2007 | پاکستان کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان بنوں،ہنگو میں سرکاری اہلکار اغوا12 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||