BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 05:58 GMT 10:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: انیس مغوی اہلکار رہا

ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس
جنوبی وزیرستان سے ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس کے سولہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا گیا تھا
جنوبی وزیرستان میں محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی طالبان نے انیس مغوی سرکاری اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے۔ پولیٹکل افسر شائستہ خان کے مطابق اغواکاروں نے مغویان کو جرگہ کے حوالے کر دیا ہے۔

پیر کو محسود قبیلے کی تین بڑی ذیلی شاخوں پر مشتمل جرگے ’درے محسود‘ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مغویان کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں رہا کرا لیا جائے گا۔

مغویان کو منگل کی صبح پہلے جرگہ کے حوالے کیا گیا اور پھر دوپہر کے وقت وانا کی پولیٹکل انتظامیہ تک پہنچا دیا گیا۔ رہائی پانے والے ہر شخص کو جرگہ کی طرف سے راویتی طور پر کپڑوں کا ایک جوڑا اور ٹوپی تحفتاً دی گئی۔

رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی رہائی غیر مشروط طور پر عمل میں آئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت سے انہوں نے سراروغہ امن معاہدے کی پاسداری کا تقاضا ضرور کیا ہے۔

اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ اغوا کاروں نے ان اہلکاروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان کی رہائی مرحلہ وار طریقے سے ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

اس جرگے نے اس سے قبل اتوار کو صدر مقام وانا میں پولیٹکل ایجنٹ سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد پولیٹکل ایجنٹ سے منسوب ایک اخباری بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ حکومت دس افراد کو رہا کرنے کے طالبان کے مطالبے کو مان رہی ہے۔

خودکش حملوں کی تیاری
 محسود جنگجو مبینہ طور پر جن دس افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے اطلاعات کے مطابق انہیں حکومت نے خودکش حملوں کی تیاری یا عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے

تاہم جرگہ رکن سینیٹر صالح شاہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا اصرار تھا کہ رہائی قبائلی جرگے کے احترام میں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ نو اگست کو جنوبی وزیرستان سے ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس کے سولہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا گیا تھا، جن میں سے ایک کی بعد میں لاش ملی تھی۔ اس واقعہ کے دو ہفتے بعد چوبیس اگست کو لدھا کے مقام سے فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ان کے محافظ، ایک تحصیلدار اور صوبیدار کو بھی اغواء کر لیا گیا تھا۔

طالبان نے ہلاک کیے جانے والے سپاہی کی ویڈیو بھی عمر سٹوڈیو کے نام سے جاری کی تھی۔

جنوبی وزیرستان کے محسود جنگجو مبینہ طور پر جن دس افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے اطلاعات کے مطابق انہیں حکومت نے خودکش حملوں کی تیاری یا عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
طالبانطالبان اور القاعدہ
تفریق کی پاکستانی پالیسی: عامر احمد خان
اسی بارے میں
جاسوسی کےالزام میں قتل
12 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد