بنوں: ایف سی کے گیارہ اہلکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں سے اغواء کیے جانے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے گیارہ اہلکاروں کو مقامی طالبان نے غیر مشروط طور پر رہا کردیا، ایف سی کے یہ اہلکار میرعلی سے بنوں پہنچ گئے ہیں۔ بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں سے چار کلومیٹر مغرب کی جانب باران پُل سے اغواء کیے جانے والے ایف سی کے گیارہ اہلکاروں کو غیر مشروط طور پر رہا کیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغوی اہلکار جمعہ کے روز شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں چھوڑ دیے گئے تھے، اس کے بعد ایف سی کے اہلکار خود ایک فلائنگ کوچ گاڑی میں میرعلی سے بنوں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے طالبان سے کسی قسم کا جرگے یا مذاکرات نہیں کیے گئے بلکہ مقامی طالبان نے خیرسگالی کی علامت کے طور پر ان اہلکاروں کو رہا کیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے ایک ڈاکٹر کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ بارہ ستمبر کو وزیرستان کے مقامی طالبان نے بنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کرنے کے بعد ایف سی کے گیارہ اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا۔ مقامی طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے اغواء کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ | اسی بارے میں بنوں،ہنگو میں سرکاری اہلکار اغوا12 September, 2007 | پاکستان بارودی سرنگ: دھماکےمیں 5 زخمی02 July, 2004 | پاکستان 4 ایف سی اہلکار زخمی، 40 گھیرے میں17 March, 2005 | پاکستان وزیرستان: دو ایف سی اہلکار ہلاک20 May, 2006 | پاکستان سکیورٹی فورسز کی تین چوکیاں تباہ21 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||