BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک ایک پل موت کو دیکھا ہے‘

نجم الحسن
’پچاس دن ایک ایک پل موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا‘
وزیرستان میں پاکستانی طالبان کی ’قید‘ سے فرار ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران انہیں ایک تنگ وتاریک کمرے میں چھیالیس روز تک مسلسل زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا۔

طالبان کی قید سے کامیابی سے فرار ہونے والوں سید نجم الحسن، سمین علی اور ارشاد حسین کا تعلق نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی پلاٹون نمبر دو سو پینتالیس سے بتایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اکتیس جولائی کو بنوں کے درہ غونڈرائی کے مقام پر طالبان نے اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ چھٹیاں گزارنے کے بعد ڈیوٹی پر واپس جا رہے تھے۔

ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے انتیس سالہ نجم الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ویگن میں سوار جب وہ درہ غونڈرائی کے مقام پر پہنچے تو پانچ کے قریب نقاب پوش مسلح افراد نے انہیں اتارا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

ان کا کہنا تھا ’مسلح نقاب پوشوں نے جن کی بڑی بڑی داڑھیاں اور بڑے بڑے بال تھے ہمیں ویگن سے اتار کر ایک گاڑی میں بٹھایا اور اس موقع پر ان کی تعداد پانچ سے بڑھ کر پچیس کے قریب ہوگئی۔ تقریباً دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہمیں ایک نامعلوم مقام پر پہنچایا گیا جہاں پر ہمیں ایک گھر میں رکھا گیا اور تیرہ مسلح افراد نے پہرہ دینا شروع کردیا۔‘

نجم الحسن کا کہنا تھا کہ اس دوران اغوا کاروں کا سربراہ آیا جس کا کہنا تھا کہ ان کے ایک غیر ملکی سمیت پانچ ساتھی حکومت کی تحویل میں ہیں اور اگر انہیں رہا نہیں کیاگیا تو آپ تینوں کےگلے کاٹ دیئے جائیں گے۔

نجم الحسن کا کہنا تھا کہ انہیں ہر دوسرے یا تیسرے روز کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا رہا اور نئی جگہ تک پہنچنے کے لیے گاڑی میں تقریباً دو گھنٹے کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔ان کے بقول انہیں آخر وقت تک یہ معلوم

ارشاد بھی چھٹیاں گزار کر ڈیوٹی پر واپس جا رہے تھے کہ اغواء کر لیے گئے
نہیں ہوسکا کہ انہیں کس علاقے میں رکھا جا رہا ہے۔ ’ہمیں بس اتنا اندازہ ہوسکا کہ یہ شمالی یا جنوبی وزیرستان میں کوئی علاقہ ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی نگرانی پر متعین مسلح افراد آپس میں بھی بہت کم بات چیت کرتے تھے، تاہم لہجے سے وہ وزیرستان کے رہنے والے ہی معلوم ہوتے تھے۔ان کے بقول بات چیت کے دوران نام لینے کی بجائے وہ ایک دوسرے کو قاری صاحب یا امیر صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حراست کے دوران ان کے پاس غیر ملکی بھی آیا کرتے تھے۔ ’اغواکاروں نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں انہیں ازبکوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘

نجم الحسن کے بقول دو تین مقام تبدیل کرنے کے بعد انہیں مستقل طور پر ایک گھر کے بہت ہی تنگ و تاریک کمرے میں منتقل کردیا گیا جہاں انہیں بیڑیاں اور ہھتکڑیاں پہنا دی گئیں۔

ان کے مطابق زنجیروں کو صرف کھانا کھانے، کمرے میں موجود بیت الخلا میں جانے اور نماز پڑھنے کے وقت کھولا جاتا تھا۔ جس کمرے میں انہیں رکھا گیا تھا اس میں چار روشندان تھے جس سے روشنی اور تازہ ہوا کا گزر تھا۔ روشن دان سے پہاڑ کی چوٹی پر سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی نظر آتی تھی۔ ’جسے دیکھ کر ہماری آزادی کی تمنا اور بھی بڑھ جاتی تھی کہ کاش کوئی ایسا پل ہو کہ بھاگ کر اس چیک پوسٹ تک پہنچ جائیں۔‘

سید نجم الحسن مزید بتاتے ہیں کہ ایک روز انہوں نے طالبان کی موجودگی میں اپنے اہل خانہ اور حکومتی اہلکاروں سے فون پر بات کی اور اغواکاروں کے مطالبات سے آگاہ کیا، جو بہرحال مانے نہیں گئے۔

ان تینوں مغویوں نے پچاس روزہ قید سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب بقول سید نجم الحسن انہوں نے گھر کے مالک کو اپنی بیوی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ حکومت مطالبے نہیں مان رہی ہے لہذا ان لوگوں کے گلے کاٹنے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔

نجم الحسن کا کہنا تھا کہ یہ بات سننے کے بعد انہوں نے بھاگنے کی ترکیب سوچی اور ہاتھوں اور پیروں کو تیل اور صابن لگایا اور انہوں نےکھینچ کھینچ کر بالاخر زنجیریں نکال دیں۔ ان کے مطابق ’ہمارے ہاتھ پیر شدید زخمی ہوگئے۔ اس وقت

نجم الحسن کے گھر والے انہیں زندہ دیکھ کر بہت خوش ہیں
دونوں پہرہ دار نہیں تھے۔ ہم بڑی مشکل سے ایک تنگ روشن دان سے کود کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بھاگتے وقت انہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اور راستے میں آنے والی میں سکیورٹی فورسز کی کئی چیک پوسٹوں پر بھی گئے لیکن انہیں ویران پایا۔

’انیس ستمبر کی صبح تقریباً اکیس گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم بنوں کے علاقے جانی خیل پہنچ گئے۔ اس دوران مبینہ طالبان کی تقریباً دو درجن گاڑیاں ہمارا تعاقب کر رہی تھیں اور ہم ندی نالوں اور جڑی بوٹیوں میں چھپ چھپ کر آگے بڑھتے رہے۔ جانی خیل پہنچے تو ایک مقامی شخص نے انہیں ایف سی کے قلعہ پہنچا دیا۔‘

سید نجم الحسن کا کہنا تھا ’ ہم نے تقریباً پچاس دن ایک ایک پل موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اب اپنی یہ آزادی ایک معجزہ معلوم ہو رہی ہے۔‘

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
افغان پاک جرگہ
طالبان کو نہیں، پاکستان کو احتیاط کی ضرورت
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
ملا نذیر احمدازبک اور ملا نذیر
’فساد گر‘ غیر ملکیوں کیلیے کوئی جگہ نہیں‘
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد