BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 September, 2007, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند ایجنسی، معاہدے پر دستخط

قبائلی علاقوں میں غیرملکیوں کی موجودگی پر حکومت کو تشویش رہی
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے ساتھ ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد صافی قبیلے نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں غیرملکیوں کو پنا نہ دینے کے علاوہ حکومتی اہلکاروں اور سرکاری املاک کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت دی گئی ہے۔

مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی میں سنیچر کی صبح ہونے والے جرگے میں صافی قبیلے کی چار ذیلی شاخوں شنوارو، قندہاری، گربز اور مسعود کے تقریباً دو سو قبائلی مشران نے شرکت کی اور انہوں نے پولٹیکل حکام کی موجودگی میں ایک تحریری معاہدے پر دستخط کیے۔

جرگے میں شامل ایک قبائلی مشر سید احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صافی قبیلے کے معتبرین نے حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر دستخط مقامی طالبان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد کیے ہیں۔

انکے بقول’معاہدے میں صافی قبیلے نےقندارو کے علاقےمیں غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کے علاوہ حکومتی اہلکاروں کی آزادانہ نقل و حرکت اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی ضمانت دی ہے۔‘

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مہمند ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ کاظم نیاز نے صافی قبیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انکا یہ اقدام علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں یکم ستمبر کو مقامی طالبان نے قندارو کے علاقے سےسکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں کو اغواء کیا تھا جنہیں جرگے کی کئی روز کی کوششوں کے بعد غیرمشروط طور پر رہا کردیا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی و شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے بعد اب مہمند ایجنسی میں بھی مبینہ مقامی طالبان روز بروز ’منظم‘ ہوتے دکھائے دے رہے ہیں۔

 حاجی عمرامریکی نقصان زیادہ
طالبان کے مطابق امریکی نقصان چھپاتے ہیں۔
لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیںطالبان کی دھمکی
’لال مسجد پر مقامی طالبان رہنما کا بیان‘
کابل جرگہ: توقعات
طالبان کی عدم شرکت کے باوجود بعض حلقے پرامید
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد