عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | قبائلی علاقوں میں غیرملکیوں کی موجودگی پر حکومت کو تشویش رہی |
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے ساتھ ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد صافی قبیلے نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں غیرملکیوں کو پنا نہ دینے کے علاوہ حکومتی اہلکاروں اور سرکاری املاک کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت دی گئی ہے۔ مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی میں سنیچر کی صبح ہونے والے جرگے میں صافی قبیلے کی چار ذیلی شاخوں شنوارو، قندہاری، گربز اور مسعود کے تقریباً دو سو قبائلی مشران نے شرکت کی اور انہوں نے پولٹیکل حکام کی موجودگی میں ایک تحریری معاہدے پر دستخط کیے۔ جرگے میں شامل ایک قبائلی مشر سید احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صافی قبیلے کے معتبرین نے حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر دستخط مقامی طالبان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد کیے ہیں۔ انکے بقول’معاہدے میں صافی قبیلے نےقندارو کے علاقےمیں غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کے علاوہ حکومتی اہلکاروں کی آزادانہ نقل و حرکت اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی ضمانت دی ہے۔‘ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مہمند ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ کاظم نیاز نے صافی قبیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انکا یہ اقدام علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں یکم ستمبر کو مقامی طالبان نے قندارو کے علاقے سےسکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں کو اغواء کیا تھا جنہیں جرگے کی کئی روز کی کوششوں کے بعد غیرمشروط طور پر رہا کردیا گیا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی و شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے بعد اب مہمند ایجنسی میں بھی مبینہ مقامی طالبان روز بروز ’منظم‘ ہوتے دکھائے دے رہے ہیں۔ |