BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغویوں کی بازیابی، مزید وقت درکار

پاکستانی فوجی
تیس اگست کو سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نےاغواء کیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے تین سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو دسویں روز بھی بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔ درے محسود قبائل کا مذاکراتی جرگہ اہلکاروں کی غیر مشروط طور پر رہائی کے لیے پرامید ہے۔

جرگے کے مطابق مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ جنگجو طالبان کے مطالبات سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ جرگے نے جنگجو طالبان کے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ جرگے کے مطابق جرگہ اب حکومت کی جانب سے اس پر عمل کرنا یا نہ کرنے کے جواب کا منتظر ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ درے محسود قبائل کا مذکراتی جرگہ اہلکاروں کی غیر مشروط طور پر رہائی کے لیے پرامید ہے۔

اعتماد کا فقدان
 حکومت اور مقامی طالبان دونوں ایک دوسرے کے شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن اب دونوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے
اخترگل محسود، جرگے کے ممبر

سات رکنی جرگے کے ممبر اخترگل محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اور مقامی طالبان دونوں ایک دوسرے کے شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن اب دونوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان امن معاہدہ سراروغہ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور حکومت کا بھی یہی موقف ہے۔ آخترگل کے مطابق اب امن معاہدے کی پاسداری کے لیے دونوں کے درمیان ایک تیسری قوت کی ضرو رت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے چھ مغوی اہلکاروں کو بھی جرگے کے احترام میں رہا کیا گیا تھا۔

لدھا سے آنے والے احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے دو سو اسی اہلکاروں کو گیارہ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور انہیں کو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغوی اہلکاروں کی روزانہ مہمانوازی کی جاتی ہے۔ جس گاؤں میں ان کو رکھا گیا ہے اس گاؤں کے لوگ باری باری ہر روز صبح شام ان کی روایتی مہمان نوازی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ تیس اگست کو سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے لدھا سے اغواء کیا تھے۔ حکومت کے مطابق مغویان کی تعداد دو سو چالیس ہے لیکن بیت اللہ گروپ کے ترجمان ذولفقار کا دعویٰ ہے کہ تین سو اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا ہے جن میں چھ اہلکاروں کو تین دن پہلے رہا کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
وزیرستان: چھ مغوی اہلکار رہا
05 September, 2007 | پاکستان
فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی
03 September, 2007 | پاکستان
فوجیوں کی تلاش بے سود
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد