BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 September, 2007, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں کی تلاش بے سود

بیت اللہ محسود
سکیورٹی اہلکاروں کو طالبان کے بیت اللہ محسود گروپ نے اغواء کر رکھا ہے
افعانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا سے سکیورٹی فورسز کے اغواء ہونے والے ڈیڑھ سو سے زائد اہلکاروں کو پانچ روز گزر جانے کے باوجود ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

ادھر حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ اتوار سے 180 سکیورٹی اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ جبکہ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ 280 سکیورٹی اہلکار ابھی بھی ان کے قبضے میں ہیں۔

محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین ذیلی قبائل کے درے جرگہ نے اس سلسلے میں پولیٹکل ایجنٹ اور وانا میں فوجی حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے جرگہ ارکان کو یقین دلایا ہے کہ محسود قبیلے کے زیر اثر علاقے میں جن راستوں کو بند کیاگیا تھا وہ پیر سے کھول دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اجتماعی ذمہ داری کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو بھی رہا کر دیا جائےگا۔

ان یقین دہانیوں کے بعد درے محسود قبائل کا جرگہ پیر کو ایک بار پھر پاکستانی طالبان سے ملنے کے لیے لدھا روانہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پیر دوپہر تک ان یقین دہانیوں پر عمل نہیں ہوا ہے۔

طالبان کے شرائط
 بعض رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے مقامی طالبان نے علاقےسے فوج کے ’مکمل انخلاء‘ اور مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے ’انیس ساتھیوں کی رہائی‘ کے علاوہ دو مزید شرائط پیش کردی ہیں جن میں علاقے میں فوجی قافلوں کی نقل و حرکت کا خاتمہ اور محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کی مبینہ گرفتاریوں کی گرفتاری کا سلسہ بند کرنا شامل ہیں۔
حکام کے مطابق طالبان نے سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی ان دس افراد کی رہائی سے مشروط کر دی ہے جنہیں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملوں پھر بلوچستان کے علاقے ژوب سے عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ طالبان نے دس نہیں، بلکہ انیس ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کے مطابق فوجی اہلکار سراروغہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے تحت طالبان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں فوج کی نقل و حرکت اور محسود علاقہ میں فوجی چوکیوں کو ختم کرنا شامل ہیں۔

بعض رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے مقامی طالبان نے علاقےسے فوج کے ’مکمل انخلاء‘ اور مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے ’انیس ساتھیوں کی رہائی‘ کے علاوہ دو مزید شرائط پیش کردی ہیں جن میں علاقے میں فوجی قافلوں کی نقل و حرکت کا خاتمہ اور محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کی مبینہ گرفتاریوں کا سلسہ بند کرنا شامل ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے مغوی اہلکاروں سے متعلق نیا موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار سے حکومت کا سکیورٹی فورسز کے 180 اہلکاروں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مصالحت کی حالیہ کوشش میں مصروف محسود قبیلے کے اکیس رکنی جرگے کے ایک رکن سنیٹر صالح شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے نے مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کیساتھ تفصیلی مذاکرات کرنے کے بعد انکی چار شرائط حکومت کی سامنے پیش کردی ہیں۔

حکومت کا موقف
جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد سے سکیورٹی فورسز کے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے اہلکاروں کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان اہلکاروں کے ساتھ حکومتی رابطہ گزشتہ روز سے منقطع ہوگیا ہے تاہم انہوں نے اہلکاروں کی طالبان کی تحویل سے متعلق کیے گئے سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران بیت اللہ محسود نے جرگے کو بتایا کہ محسود علاقے سے فوج کے انخلاء، پاکستان کے کسی بھی علاقے سے مبینہ طور گرفتار ہونے والے ان کے انیس ساتھیوں کی رہا ئی، علاقے میں فوجی قافلوں کی نقل و حرکت کا خاتمہ اور محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کی گرفتاری اور چیک پوسٹوں پر انکی تلاشی کا سلسلہ نہیں روکا گیا تب تک سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو آزاد نہیں کیا جائے گا۔

انکے بقول بیت اللہ محسود نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے عام قبائلیوں کی گرفتاری اور انکو تنگ کرنے کا سلسلہ فی الفور بند نہیں کیا گیا تو روزانہ پانچ اہلکاروں کا سرقلم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیت اللہ محسود نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تین مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز کے تقریباً 780 اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغواء کیا تھا جن میں سے پانچ سو کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا جبکہ انکے دعویٰ کے مطابق 280 اہلکار اب بھی ان کی تحویل میں ہیں۔

سنیٹر صالح شاہ نے مزید بتایا کہ جرگے نے حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے ایک ملاقات کے دوران طالبان کی شرائط انکے سامنے پیش کردیں جن میں سے حکومت نے ایک شرط کو مانتےہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ گرفتار کیے جانے والے عام قبائلیوں کو رہا جبکہ انکی گاڑیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور اسکے ساتھ ساتھ انہیں مزید تنگ نہیں کیا جائے گا۔ انکے بقول اس شرط کو ماننے کے بعد جرگے نے حکومت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ طالبان پانچ مغوی اہلکاروں کے سر قلم نہیں کریں گے۔

سنیٹر صالح شاہ نے پہلی مرتبہ اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس سے قبل انیس مغوی سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے سلسلے میں حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ حکومت سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے بدلے میں بروندہ، میرہ، ودان سر اور غوٹ سر کے علاقوں سے فوج کو بیدخل کرے گی۔

حالانکہ اس سے قبل انیس اہلکاروں کی رہائی کے بعد جرگے نے کہا تھا کہ طالبان نے قبائلی روایات کے مطابق قبائلی مشران کی عزت اور احترام کی خاطر ان مغویان کو غیرمشروط طور پر رہا کر دیا ہے۔انکے بقول جرگے کو طالبان کی شرائط کے حوالے سے حکومت کےجواب کا انتظار ہے۔

اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد سے سکیورٹی فورسز کے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے اہلکاروں کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان اہلکاروں کے ساتھ حکومتی رابطہ گزشتہ روز سے منقطع ہوگیا ہے تاہم انہوں نے اہلکاروں کی طالبان کی تحویل سے متعلق کیے گئے سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے 180 اہلکار اپنے کیمپ میں محصور تھے مگر گزشتہ روز سے انکے ساتھ تمام رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔ تاہم انکے بقول جرگے نے کوششیں شروع کردی ہیں اور امید ہے کہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہوگی۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان نے اپنی شرائط میں اضافہ کر دیا ہے۔اس سے قبل طالبان نے علاقے سے فوج کے مکمل انخلاء اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کی شرائط پیش کر دی تھیں۔

لیکن اب انہوں نے فوجی قافلوں کی نقل وحرکت کے خاتمے اور عام قبائلیوں کی گرفتاری کے بارے میں دو اور شرائط پیش کردی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ طالبان کے مبینہ طور پر گرفتار شدہ ساتھیوں کی تعداد انیس ہے اور وہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان ، ژوب اور بنوں سے نہیں بلکہ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے مبینہ طور پر گرفتار کیےجانے والے اپنے انیس ساتھیوں کی رہا ئی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد