BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 August, 2007, 22:23 GMT 03:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکار یرغمال نہیں ہوئے: فوجی ترجمان

وزیرستان (فائل فوٹو)
یہ سکیورٹی اہلکار کنیگرم کے علاقے میں لاپتہ ہوگئے
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ’لاپتہ‘ ہوجانے والے سو کے قریب اہلکار یرغمال نہیں ہیں بلکہ ایک گاؤں میں عارضی طور پر قیام پذیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسم کی خرابی کے باعث قبائلی علاقے میں موجود یہ اہلکار اپنے کیمپ میں ہیں اور ان کا اپنے سینئر حکام سے رابطہ ہوا ہے۔ ’یہ اہلکار موسم کی خرابی کے باعث ایک گاؤں میں رک گئے تھے اور کل جب موسم ٹھیک ہوگا تو واپس آ جائیں گے۔‘

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے میجر جنرل وحید ارشد نے اس بات کی تردید کی کہ یہ اہلکار مقامی طالبان کے قبضے میں ہیں یا یرغمال ہیں۔ انہوں نے کہا: شروع میں ایک غلط فہمی ہوئی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔‘

جمعرات کو مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر پیش قدمی کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ایک سو سے لیکر تین سو کے قریب فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان ذوالفقار محسود نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ امن کمیٹی کے فیصلے کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر سکیورٹی فورسز نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خیسور، شولام، ممیکڑم، سلروغہ، آسمان مانزہ اور سام کے اطراف میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی جس پر انہوں نے محاصرہ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سکیورٹی اہلکار سولہ ٹرکوں میں سوار تھے کہ کنیگرم کے علاقے میں لاپتہ ہوگئے۔

فوج کے ترجمان نے مقامی طالبان کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’میری معلومات یہی ہیں کہ سکیورٹی اہلکار یرغمال نہیں ہیں اور ایک گاؤں میں کیمپ کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں مقامی قبائل یہ سمجھے تھے کہ شاید یہ فوجی دستے کسی آپریشن کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں لیکن یہ ’غلط فہمی اب دور ہوگئی ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’اگر وہ یرغمال بنائے جاتے تو کوئی لڑائی ہوتی، فائرنگ کے واقعات ہوتے لوگ ہلاک و زخمی ہوتے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

ذوالفقار محسود کا الزام تھا کہ یہ فوجی جنگی تیاری کر رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ترجمان کے مطابق یہ سکیورٹی اہلکار ہلکے اور بھاری اسلحے سے مسلح تھے۔ ’انہیں غیرمسلح کرکے قید خانوں میں بھیج دیا گیا۔‘

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ’لاپتہ‘ ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سو کے قریب تھی اور ان میں فوجی اور نیم فوجی دستے شامل تھے۔

دو روز قبل ہی امن کمیٹی کی کوششوں سے مقامی طالبان نے انیس مغوی سکیورٹی اہلکار رہا کر دیے تھے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت سراروغہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقے میں پہاڑوں پر پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے جس پر انہیں کارروائی کرنی پڑی۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
اسی بارے میں
جاسوسی کےالزام میں قتل
12 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد