’ہم پابندی قبول نہیں کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینلز کے دکھائے جانے پر بندش، صحافیوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد، اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی گئی۔ مقررین نے احتجاجی جلسہ سے خطاب میں کہا کہ یہ جلسہ صحافیوں کی احتجاجی تحریک کا آغاز ہے اور وہ آزادئ صحافت اور آزادئ اظہار کے حصول تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کے یو جے یعنی کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر شمیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر لگائی گئی ملک گیر پابندی کی مذمت کرنے کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد صحافیوں کو ان پابندیوں کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لیے تیار کرنا بھی ہے اور اسی طرح کے اقدامات صحافی تنظیمیں ملک کے دیگر حصوں میں کریں گی تاکہ یہ تحریک ملک گیر سطح پر چلائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے اور ہم ایمرجنسی کو قبول نہیں کرتے، ہم چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی کا فوری طور پر خاتمہ ہو کیونکہ میڈیا پر پابندی ایمرجنسی کے نفاذ کے سبب ہی لگائی گئی ہے۔‘ شمیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کے غلط اقدامات کی وجہ سے جس طرح دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، سیاسی آزادی سلب ہوئی ہے، بے روزگاری بڑھی ہے یہ سب حقائق میڈیا دنیا پر عیاں کر رہا ہے اور یہ وجوہات بھی میڈیا پر پابندی کا سبب بنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت ہر ایک کا حق ہے اور ہم اس پر پابندی قبول نہیں کریں گے اور ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور بغیر جمہوریت کے آزادئ صحافت بے معنی ہوتی ہے۔‘ صحافیوں اور وکلاء پر تشدد اور گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی ارکان اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں اور ان میں برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے اور حکومت ہر قسم کی مزاحمت کو تشدد سے کچلنا چاہتی ہے۔ اے ٹی جے یعنی ایسوسی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹس کے صدر جاوید صبا نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد اور میڈیا پر پابندی کوئی نئی بات نہیں یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن جس طرح پیر کو پولیس نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ان پر سنگین الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت میڈیا کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کا ارادہ رکھتی ہے اور جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جلسہ سے کراچی پریس کلب کے صدر صبیح الدین غوثی، سیکریٹری امتیاز خان فاران، منہاج برنا، ادریس بختیار اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر پولیس سے رہائی پانے والے پانچ پریس فوٹوگرافرز بھی موجود تھے جنہیں پولیس نے پیر کو پریس کلب کے سامنے سے گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب وہ سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کی تصاویر لے رہے تھے۔ دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور صحافیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر وہ احتجاجی جلسہ کے بعد جلوس کی صورت میں کراچی پریس کلب کے احاطہ سے باہر نکلے تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج 06 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت بحال کریں: صدر بش05 November, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سماں 05 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||