’فوج پر حملہ، مقدمہ فوجی عدالت میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے کے سلسلے میں دہشت گردی کا قانون موثر نہ ہونے کی وجہ سے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کرکے اس میں کچھ دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جیسے جیسے دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اسی طرح گورنمنٹ کو اپنی رٹ بھی زیادہ بڑھانی پڑ رہی ہے اور ان دفعات کا صرف ان لوگوں پر اطلاق ہو گا جو دہشت گردی کے ایسے واقعات میں ملوث ہوں گے جن کا نشانہ فوج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صرف دہشت گردوں پر ان دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو دہشت گردی بھی کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کے بنیادی اور انسانی حقوق بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں کچھ سقم موجود تھے اُن کو دور کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر کہ آیا اب ملک میں نئی فوجی عدالتیں قائم ہوں گی ملک قیوم نے کہا کہ فوج کا ایک اپنا نظام ہے اور اس نظام میں آرمی ایکٹ کے تحت جرائم کا فیصلہ بھی وہ خود ہی کرتے ہیں، اس کو ٹرائل بھی خود ہی کرتے ہیں مگر وہ مستقل عدالتیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں فوج کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ کسی مبینہ شدت پسند کو تیس دن حراست میں رکھ سکتے ہیں اس طرح کا قانون انڈیا میں ہے جبکہ امریکہ میں پیٹریاٹ ایکٹ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ دہشتگردی کی عدالتیں اپنا کام جاری رکھیں گی جبکہ فوجی عدالتوں میں انہیں افراد کو لایا جائے گا جنہوں نے فوج کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کی کوئی کارروائی کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف جو بھی جرم ہوتا ہے اسے سویلین عدالتیں ٹرائل نہیں کرتیں بلکہ ان کا کورٹ مارشل ہی ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ فوج کا بنیادی کام ہے سرحدوں کو سنبھالنا ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوج کو دہشت گردی میں ملوث افراد سے نمٹنے کا بھی اختیار ہونا چاہیے۔ وکلاء کی رجسٹریشن سے متعلق آرڈیننس کے بارے میں ملک قیوم نے کہا کہ وکلاء کی رجسٹریشن تو بار کونسل ہی کریں گی لیکن ان کی منسوخی کا اختیار ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے پاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آرڈیننس چند روز میں آجائے گا۔ | اسی بارے میں غیرمعینہ حراست ایکٹ سے لاعلمی01 November, 2007 | پاکستان ’ہم پابندی قبول نہیں کریں گے‘07 November, 2007 | پاکستان انتخابات کروائیں، وردی اتار دیں: بش08 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ’دوغلی‘ پالیسی05 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||