مشرف کیا کہنا بھول گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے بالاخر اپنی’ کھال‘ ، اتار دی اور کمان کی جس چھڑی میں انکی طاقت پوشیدہ تھی اس سے انہوں بظاہر بڑی نیم دلی کے ساتھ اپنے ہی ہاتھ سے پاکستان کے نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔ پاکستانی فوج کی کمان جنرل پرویز مشرف سے جنرل اشفاق پرویز کو منتقل ہونے کی تقریب اس لیے بھی دیدنی تھی کہ پاکستانی عوام نے آٹھ سال سے اپنے اوپر مسلط فوجی حاکم کو پہلی بار ایک ایسی کیفیت سے گزرتے ہوئےدیکھا جنکے چہرے پر پریشانی، اور عدم تحفظ تیرتا ہوا نظر آرہا تھا۔ خطاب کے دوران انکی آواز کچھ لمحوں کے لیے بھرائی ہوئی تھی اور الفاظ بھی ایک طاقتور جرنیل کے قابو میں نہیں آرہے تھے۔اس تاریخی موقع پر انہوں نے جو تقریر کی وہ بظاہر نامکمل معلوم ہورہی تھی۔ انہیں تو یہ بات یاد رہی کہ جب کبھی بھی پاکستان میں زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت آئی ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے فوج ہی میدان عمل میں اتری ہے۔
لیکن شاید وہ یہ کہنا بھول گئے تھے کہ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے پاکستانی فوج 72 گھنٹے بعد پہنچی تھی جسکا احساس جب خود جنرل صاحب کو ہوا تھا تو انہوں نے فوج کی تاخیر سے پہنچنے پرمعافی مانگ لی تھی حالانکہ اسی فوج کو جب انیس سو ننانوے میں جمہوریت کو ’بلڈوز، کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تو وہ کچھ ہی دیر میں وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئی تھی۔‘ سبکدوش جنرل پرویز مشرف کو تو یہ یاد رہا کہ جب بھی خود کش حملہ ہوتا ہے تو پاکستانی فوج آگے آتی ہے لیکن وہ یہ بات کہنا بھول گئے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انکے ہی زیر کمان فوج نہیں بلکہ خود کش حملہ آور ہی فوج کے آگے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران فخریہ انداز میں پاکستانی فوج کو ایک طاقتور فوج کا خطاب دیا تاہم اس تاریخی موقع پر شاید یہ بات جنرل صاحب کے حافظے سے محو ہوگئی تھی کہ انکے زیر کمان پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طاقتور اور منظم فوج کے تین سو سے زائد اہلکاروں کو جنوبی وزیرستان میں چند درجن غیر منظم اور روایتی طالبان جنگجوؤں نے یرغمال بنایا تھا اور پھر انکی رہائی کسی آپریشن کے نتیجے میں نہیں بلکہ انتیس مبینہ دہشت گردوں کی رہائی کے بدلے میں عمل میں آئی تھی۔ اور وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قوم سے اپنی تقریر کے دوران سپریم کورٹ کے برطرف چیف جسٹس افتخار چودھری اور دیگر جج صاحبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اکسٹھ مبینہ دہشت گردوں کو رہا کردیا تھا۔
جنرل صاحب یہ کہنا بھی بھول گئے تھے کہ انکی زیر کمان ہی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے گلے کاٹنے کا رجحان پروان چڑھا جبکہ بلوچستان میں کئی دہائیوں تک اسٹبلشمنٹ کے ’بہترین دوست‘، نواب اکبر خان بگٹی کو دیوار کے ساتھ لگا کر انہیں ایک محب وطن پاکستانی کے بجائے ایک ’بلوچ حریت پسند‘، بناکر ہلاک کردیا گیا جسکے نتیجے میں آج بلوچستان میں دن بدن بلوچ عسکریت پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو اپنی تقریر کے بے اثر ہونے کا احساس شاید اس وقت اچھی طرح ہوا ہوگا جب وہ اورنئے چیف آف آرمی اسٹاف تقریب کے اختتام پر فوجی افسران اور اعلی حکومتی اہلکاروں کے ساتھ مصافحہ کررہے تھے۔ اس موقع پر بیشتر افسران کا ہاتھ تو جنرل پرویز مشرف کے ہاتھ میں لیکن انکی آنکھیں پیچھے آنے والے طاقت کے نئے سرچشمےاشفاق پرویز کیانی کو گھور رہی تھیں۔ |
اسی بارے میں مشرف کا وردی اتارنےکا فیصلہ، صدر کی حلف برداری جمعرات کو ہو گی26 November, 2007 | پاکستان صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن24 November, 2007 | پاکستان اغوا کنندہ کا اعلان23 November, 2007 | پاکستان صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کریں، سپریم کورٹ کا حکم23 November, 2007 | پاکستان مشرف کے خلاف درخواستیں مسترد 22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||