مشرف کا وردی اتارنےکا فیصلہ، صدر کی حلف برداری جمعرات کو ہو گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف جمعرات کو بطور سویلین صدر حلف اٹھائیں گے۔ اس سے پہلے وہ بحیثیت آرمی چیف وردی اتار دیں گے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف جمعرات کو سویلین عہدے کا حلف لیں گے۔ صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی نے کہا ہے کہ جنرل مشرف اگلے دو روز مختلف فوجی مراکز کا الوداعی دورہ کریں گے۔ بی بی سی اردو کی ماہ پارہ صفدر سے بات کرتے ہوئے صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ صدر کا حلف اٹھانے سے پہلے وہ بحیثیت آرمی چیف ذمہ داریاں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کر دیں گے۔ راشد قریشی کے مطابق صدر جمعرات کو صبح گیارہ بجے ایوان صدر میں حلف لیں گے۔ اس سے قبل عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ نے بھی صدر کو یکم دسمبر سے قبل وردی اتارنے کے لیے کہا تھا۔ عدالت نے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف کئی آئینی درخواستیں بھی مسترد کر دی تھیں۔ جنرل مشرف بی بی سی سے ایک انٹرویو میں اپنی فوجی وردی کو اپنی ’ کھال‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔ ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل اس وقت کی سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے، جس کی سربراہی جسٹس رانا بھگوان داس کر رہے تھے، صدر کے دو عہدے رکھنے اور کسی سرکاری ملازم کی اپنا عہدہ چھوڑنے کے دو سال کے اندر صدر کے عہدے کے لیے اہلیت کے بارے میں آئینی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
تین کے مقابلے میں چھ ججوں نے ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ بنچ میں شامل جسٹس فلک شیر نے اختلافی نوٹ لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم نے صدر کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم گیارہ رکنی بنچ اس مقدمے کی سماعت ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل کر رہا تھا۔ جنرل مشرف نے فوج میں کمیشن انیس سو اکسٹھ میں پی ایم اے کاکول پہنچنے پر حاصل کی۔ انیس سو اکانوے میں وہ میجر جنرل جبکہ پچانوے میں لیفٹنٹ جنرل بنے۔ انہیں سات اکتوبر انیسو اٹھانوے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ترقی دے کر فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ انہیں جنرل جہانگیر کرامت کی جگہ مقرر کیا گیا تھا جو حکومت اور فوج کے درمیان شرکت اقتدار کی تجویز کی وجہ سے متنازعہ ہوگئے تھے۔ جولائی انیس سو ننانوے میں انہیں کارگل کی جنگ کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||