مشرف کے خلاف درخواستیں مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت عظمیٰ کی فل کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر آخری پٹیشن کو خارج کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایمرجنسی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کے روز عدالت نے جنرل مشرف کے خلاف آخری پیٹیشنر ظہور مہدی کی طرف سے دائر درخواست خارج کر دی۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی ہیں سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے کہا کہ صدر کی اہلیت کے بارے میں شارٹ آرڈر کل جاری کیا جائےگا۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے شارٹ آرڈر جاری کرنے کے بعد الیکشن کمیشن صدر جنرل پرویز مشرف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا جس کے بعد وفاقی حکومت پرویز مشرف کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی جس میں ان سے کہا جائے گا کہ وہ بطور صدر اپنے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف حلف لینے سے پہلے وردی اُتار دیں گے اور وہ آئین کے مطابق حلف لیں گے۔
جمعرات کے روز جب سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے صدر کی اہلیت کے خلاف لاہور سے تعلق رکھنے والے ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظہور مہدی کی درخواست کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ فل کورٹ نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں دلائل دینے کو کہا۔ سب سے پہلے بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے رحواست گزار سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے ان کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کہا کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی اس لیے مسترد ہوئے کیونکہ ان کا کوئی تجویز کنندہ یا تائید کنندہ نہیں تھا۔ اس پر درخواست گزارظہور مہدی نے کہا کہ انہوں نے اپنی درخواست اسلامی اصولوں کے مطابق دی تھی۔ جواب میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ خلفائے راشدین نے بھی خود کو کبھی بغیر تائید کنندہ یا تجویز کنندہ کے کسی عہدے کے لیے پیش نہیں کیا۔
اُس وقت اس بینچ میں شامل جسٹس سردار رضا محمد خان نے بینچ میں بیٹھنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر ہونے والے فیصلے میں اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں اس لیے وہ اس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے۔ اس کے بعد اس بینچ نے پانچ اکتوبر کو ان درخواستوں کی سماعت پر یہ حکم جاری کیا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے عمل کو جاری رکھا جائے تاہم عدالت نےچیف الیکشن کمشنر کو حکم دیا کہ وہ ان درخواستوں کے فیصلے تک کامیاب ہونے والے امیداوار کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر کی سربراہی میں سات رکنی بنچ ملک میں ایمرجنسی کے خلاف رٹ کی سماعت جمعرات کے روز بھی جاری رہی۔ اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی مختصر مدت کے لیے ہے اور انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہو گی اور صدر جنرل پرویز مشرف اپنی دوسری صدارتی مدت کا حلف اٹھانے سے پہلے وردی اتار دیں گے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ تین نومبر کے بعد ملک میں نہ تو کوئی خودکش حملہ ہوا ہے اور نہ ہی بم دھماکہ۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس امر کا جوڈیشل نوٹس لینا چاہیے۔ ملک قیوم نے مزید کہا کہ ایمرجنسی فخر کرنے کی بات نہیں ہے۔ لیکن ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب تھی اور ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بھی تنازل کی طرف جا رہی تھیں۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کی کمی کا ذکر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے اس خط میں بھی کیا تھا جو انہوں نے تین نومبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کو لکھا تھا۔ اس پر جسٹس ضیاء پرویز نے استفسار کیا کہ اگر وزیر اعظم ملک نہیں چلا سکتے تھے تو استعفٰے دے دیتے۔ بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اقتصادی سرگرمیاں میں بہتری آئی ہے۔ اس پر صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے کاموں میں مداخلت کررہی تھی۔ انہوں نے انتیس ستمبر کا ذکر کیا جب وکلاء اور پولیس کے درمیان الیکشن کمیشن کے سامنے جھڑپیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز ان جھڑپوں کا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چھٹی والے دن یعنی اتوار کو از خود نوٹس لیا اور سیکریٹری وزارت داخلہ کو طلب کیا۔ ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار ٹکا اقبال محمد خان کے وکیل عرفان قادر نے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کے وکیل اور اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی ماورائے آئین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری آئین میں عدلیہ کے اختیارات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا حل آئین میں موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین کی دفعہ دو سو پنتالیس کے تحت فوج کو ان علاقوں میں طلب کرسکتا ہے جن علاقوں میں امن و امان کی صوت حال خراب ہورہی ہو اور ایسے علاقوں میں محدود ماشل لاء لگایا جا سکتا ہے۔ عرفان قادر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ان درحواستوں کی سماعت جمعہ کے روز تک ملتوی کردی۔ وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ خان کل اپنے دلائل دیں گے اور انہوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ وہ پانچ منٹ میں اپنے دلائل مکمل کرلیں گے جس کے بعد اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ ان درخواستوں پر فیصلہ اُسی روز متوقع ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||