BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 04:55 GMT 09:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے ادارے بکھرنے کا خطرہ

طالبان کے سامنے سینکڑوں فوجی ہتھیار ڈال چکے ہیں
صدر مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور سول سوسائٹی اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے خلاف آمرانہ جبر نے ملک کے کلیدی اداروں کے بکھرنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

ملک میں حالیہ سیاسی بحران اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خطرات ایک اور بہت ہی سنگین خطرے کے سامنے چھوٹے دکھائی دیں گے جو اس ملک کے انتظامی ڈھانچے کو لاحق ہونے والا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ملک کو کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ملک کا آئین، عدلیہ کی آزادی، مایوس اور بددل نوکر شاہی اور فوج، اقتصادی کساد بازاری اور ملک کی فوج کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے مخاصمت وہ خطرات ہیں جو سر پر منڈلا رہے ہیں۔

فوج کے ادارے کو ایک ایسے ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو ریاستِ پاکستان کو یکجا اور متحدہ رکھنے کی ضمانت فراہم کرتا تھا۔

لیکن اب یہی ادارہ ملک کے دوسرے اداروں کی تباہی کی وجہ بن رہا ہے اور جنرل مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس عمل میں اتنی تیزی پیدا ہو جائے گی۔

بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جنرل مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کا نفاذ عدالیہ کی فعالیت، یا سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا مقصد آئین کی شکل تبدیل کرکے ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری عدلیہ کی آزادی کی علامت بن گئے ہیں
جنرل مشرف نے واضح طور پر کہا ہے کہ آزاد عدلیہ فوج کی سب سے بڑی مخالف ہے۔

حالیہ دنوں میں انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے اپنے انٹرویوز اور سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کے خلاف بہت باتیں کی ہیں۔

سترہ رکنی بینچ میں شامل بہت سے ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور اب وہ نظربندی کاٹ رہے ہیں۔ چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں ستانوے ججوں میں سے ساٹھ ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار دیا تھا۔

گزشتہ سال اعلی عدلیہ نے فوجی حکومت کی باندھی بن کر رہنے سے انکار کر دیا اور آئین اور قانونی کی پاسداری اور اپنی آزادی پر زور دینا شروع کیا۔

فوجیوں میں بدلی پھیل رہی ہے

فوج کو اس طرح کی صورت حال کا ماضی میں کوئی تجربہ نہ تھا اور اس نے عدلیہ کو دبانے اور نئے جج مقرر کرنے کا عزم کیا۔

دریں اثناء ہزاروں کی تعداد میں وکیلوں کی گرفتاری کی وجہ سے
عدالتیں مفلوج ہو کر رہ گئیں۔

فوج نے انیس سو باون کے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی ہے تاکہ عام شہریوں پر بھی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا سکیں۔

اٹھارہ سیاست دان اور وکلاء پر ان عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے والے ہیں۔ فوجی افسر ججوں کی جگہ بیٹھے ہوئے عوام میں فوج کے خلاف مزید نفرت کا باعث بنیں گے۔

معطل کیے جانے والے ججوں کی بحالی اب عوام کا سب سے پہلا مطالبہ بن گیا ہے جبکہ فوج اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عدلیہ کی فوج کے ہاتھوں اس طرح تباہی یقینی طور پر مستقبل میں منفی اثرات مرتب کرئے گی۔

بیروکریسی میں ایک طویل عرصے سے فوج کے خلاف نفرت پھیل رہی تھی کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کیا جاتا رہا ہے۔

بہت سے اعلی سرکاری افسروں کو کم تر اسامیوں پر لگایا گیا۔ اس بات کے اثرات بھی نمایاں ہیں کہ بہت سے ضلعوں میں سرکاری اہلکار فوج سے تعاون کرنے سے گریزاں ہیں اور ایمرجنسی کا ساتھ نہیں دے رہے۔

گو کہ پولیس مظاہرین کو بری طرح زدوکوب کر رہی ہے لیکن بہت سے سرکاری افسروں نے سیاست دانوں سے کہا ہےکہ ان کو ان احکامات کی تعمیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔


فوج کے خفیہ اداروں کے افسروں کو پولیس کے ساتھ تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پولیس مظاہرین کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتے۔

پولیس کے اہلکار بہت مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ طالبان نے زیادہ تر انہیں ہی نشانہ بنایا ہے۔

اگر صورت حال بگڑتی ہے اور پولیس کو خصوصاً پنجاب میں مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات دینے کی نوبت آتی ہے تو عین ممکن ہے کہ بہت سے پولیس والے ان احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں۔

لیکن ملک کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ ہےکہ فوج بھی مایوسی کا شکار ہے کیونکہ یہ قبائلی علاقوں سے طالبان کی سرگرمیوں کو شمال اور مشرق میں پھیلنے سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایمرجنسی کا نفاذ
 ایمرجنسی کے نفاذ سے مشرف نے دراصل اپنی تباہی کو یقینی بنالیا ہے اور اس نے اب ان سب چیزوں کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں میں بڑی مشکل سے حاصل کی گئی ہیں۔

وادیِ سوات جو ملک کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہے اب مکمل طور پر شدت پسندوں کے قبضے میں ہے۔ حال ہی میں طالبان مردان اور کوہاٹ تک پھیل گئے ہیں۔

سینکڑوں کی تعداد میں نیم فوجی دستوں کے اہلکار اور فوجی شدت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ فوج اب اپنی ساکھ برقرار رکھنے کےلیے مقامی طالبان سے امن معاہدے کر رہی ہے۔

بہت سے پاکستانیوں اور عالمی برادری کو محسوس ہو رہا ہے کہ فوج کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ طالبان کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کرے۔

یہ کوئی بہت حیران کن بات بھی نہیں کیونکہ فوج اور پولیس کے زیادہ تر وسائل ایمرجنسی کے خلاف مظاہروں کو دبانے کے لیے صرف کیئے جا رہے ہیں۔

فوج کی ہائی کمان جب جنرل مشرف کے اقتدار اور موجودہ نظام کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہے تو وہ کسی طرح طالبان کے خلاف ایک مربوط حکمت عملی مرتب کر سکتی ہے۔

سن دو ہزار کے بعد سے ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح سات فیصد رہی ہے لیکن اب یہ ایک مرتبہ پھر تنزلی کا شکار ہے۔

معیشت کا پیہہ تھم گیا ہے، افراط زر بڑھ رہا ہے اور ملک میں چینی اور گندم جیسی اشیاء کی بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔

حکومت کو پیٹرول کی قیمتوں میں بھی جلد یا بدیر اضافہ کرنا پڑے گا۔ کاروباری طبقعہ مشرف کا حامی تھا لیکن وہ اب بحرانی کیفیت اور ملک میں عدم استحکام سے پریشان ہیں۔

پاکستان کے کاروباری طبقعے کے یورپ اور خلیج کے ممالک کے ساتھ مستحکم مراسم ہیں۔ اس لیے اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ ملک سے اچانک پیسے باہر جانے لگا جیسا کے انیس سو ستر اور اسی کے عشرے میں ہو چکا ہے۔

اس مرتبہ اس پیسے کے واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

بہت سے دوسرے ترقی پذیر ملکوں کے برعکس پاکستان میں ریاستی ادارے بڑے مستحکم ہیں اور لوگوں میں قانونی کی بالادستی اور آئین پر یقین موجود ہے اور ملک میں ایک فعال عدالتی نظام بھی کام کر رہا ہے۔

عوام میں جمہوریت کی خواہش بھی بڑی شدت سے پائی جاتی ہے۔

فوج کے لیے یہ بہت خطرناک بات ہے کہ ریاست کے ان ستونوں کو نظر انداز کرے جن پر یہ کیثرالاقومی ملک قائم ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے مشرف نے دراصل اپنی تباہی کو یقینی بنالیا ہے اور اس نے اب ان سب چیزوں کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں میں بڑی مشکل سے حاصل کی گئی ہیں۔

سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
کراچی بازارِ حصصپاکستان میں تنزلی
ایمرجنسی نے معاشی ترقی کا رخ بدل دیا
پاکستانایمرجنسی بارہواں دن
عوام با مقابل انتظامیہ کا بارہواں دن
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
افتخار چودھری’میں آج بھی جج ہوں‘
جسٹس افتخار: بی بی سی سے خصوصی انٹرویو
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد