ناکامیوں میں تبدیل ہوتی کامیابیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں معاشی ترقی کے وہ اشارے جنہیں جنرل پرویز مشرف کئی سالوں سے اپنی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کر تے رہے ہیں، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی، کراچی سٹاک ایکسچینج جس تیز رفتاری سے گری، گو خدشات تو تھے لیکن اس شدت کی توقع کم لوگوں کو تھی۔ ایک روز میں چھ سو پینتیس پوائنٹس کا مطلب ہوا کہ سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوبے۔ ایک اور معاشی محاذ جسے جنرل مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز اپنی کامیابیوں میں گنوانا نہیں بھولتے، وہ ہے ملک میں رئیل سٹیٹ یا جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے پاکستان میں اس کاروبار نے خاصی ترقی کی۔ گو اس میں مشرف یا شوکت عزیز کی حکومت کی پالیسیوں سے زیادہ کمال امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تھا۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں نے امریکہ اور یورپ کے بجائے پاکستان میں پراپرٹی کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی اور یہ کاروبار مستحکم ہوتا چلا گیا۔ لیکن ایمرجنسی اس سیکٹر پر بھی ’نافذ‘ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گزرتا ہر دن، اس کاروبار کو مندی کی جانب لے جا رہا ہے۔ ویسے تو مارچ میں صدر مشرف کی جانب سے چیف جسٹس کی معزولی کے حکمنامے کے اجرا کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی کے باعث پراپرٹی کا کاروبار کچھ سست ہوا تھا لیکن ایمرجنسی کے بعد ایک محتاط اندازے کے بعد اب تک ملک بھر میں جائیداد کی قیمتوں میں پندرہ سے بیس فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
ویسے بادی النظر میں پلاٹوں اور گھروں کی قیمتوں میں دس روز میں اس قدر کمی غیر معمولی نہ ہوتی اگر یہ رجحان ملک گیر نہ ہوتا۔ کراچی میں اس کاروبار سے وابستہ ایس ایم شفیع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ کمی بیشی عموماً کسی مخصوصی سکیم، علاقے، کیٹگری یا شہر سے متعلق ہوتی ہے۔ لیکن اس بار یہ صورتحال پورے ملک میں ایک ساتھ وارد ہوئی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس گراوٹ کا براہِ راست تعلق ملکی سیاسی صورتحال سے ہے۔ ’جب سیاسی غیر یقینی ہو تو سرمایہ کار جس طرح دیگر شعبوں سے ہاتھ کھینچتے ہیں بالکل اسی طرح کے اثرات پراپرٹی کے کاروبار پر بھی آتے ہیں کیونکہ یہاں پر پچانوے فیصد لوگ صرف نفع کے لیے سرمایہ لگاتے ہیں جب کہ ضرورت مند خریداروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے‘۔ فیصل محمود اسلام آباد میں رئیل سٹیٹ ڈیلر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ برس میں انکے ذریعے اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی اکثریت بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی ہے۔ فیصل کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ان کے کافی سارے سودے ادھورے رہ گئے ہیں کیونکہ خریدار مارکیٹ سے اچانک غائب ہو گئے ہیں۔ ’ پراپرٹی کا کاروبار بڑے سرمایہ کاروں کے دم سے چلتا ہے۔ سیاسی صورتحال کے پیش نظر جب وہ ہاتھ کھینچ لیں تو اس سے چھوٹے اور مقامی سرمایہ کار بھی متاثر ہوتے ہیں اور یوں قیمتیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں‘۔ کئی عشروں سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک افراد کے جائزے بتاتے ہیں کہ جائیداد کی گرتی قیمتیں ملک کے کاروباری حالات اور خود جنرل پرویز مشرف کے لیے نیک شگون نہیں کہ جن کامیابیوں کا ڈھنڈورہ وہ کئی سال سے پیٹتے آ رہے ہیں، وہ یوں اچانک دنوں میں ناکامیوں کو جنم دینے لگیں۔ |
اسی بارے میں بازار حصص میں مندی کا رحجان01 November, 2007 | پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر30 October, 2007 | پاکستان حصص بازار، شدید مندی برقرار16 August, 2007 | آس پاس بازار حصص میں تیزی، روپے کی مضبوطی پر تشویش27 September, 2007 | انڈیا پاکستانی ادارے عالمی منڈی میں 20 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||