BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی بازار حصص میں شدید مندی

کراچی سٹاک ایکسچینج
کراچی سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ ہفتے بھی مندی کا رجحان رہا تھا
پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے دن کراچی سٹاک ایکسچینج میں حصص کا لین دین سال کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں نے اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حصص بازار پر عائد ٹیکس ختم اور بروکرز کے مسائل حل کیے جائیں۔

ہفتہ وار تعطیل کے اختتام پر جب حصص کا لین دین شروع ہوا تو کاروباری سرگرمیوں میں سردمہری دیکھنے میں آئی۔ جس کا براۂ راست اثر حصص کی خرید و فروخت پر پڑا۔ حصص کی لین دین میں مندی سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

دو پہر تک سٹاک ایکسچینج میں صرف پانچ کروڑ، نوے لاکھ حصص کی خرید و فروخت کی گئی۔ 5 جنوری، 2007ء کے بعد حصص کے لین دین کی یہ سب سے کم سطح ہے۔

حصص بازار میں شدید مندی سے چھوٹے سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی۔ جس کے بعد انہوں حکومت کی جانب سے سٹاک ایکچینج پر لگائے گئے ٹیکسوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے، جن پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس میں کمی اور ایس ای سی پی اور سٹاک بروکرز کے درمیان جاری تنازع حل کرنے کے مطالبات تحریر تھے۔

چھوٹے سرمایہ کاروں کا نقصان
 ایس ای سی پی اور سٹاک بروکرز کے درمیان تنازع حل نہ ہوا تو نہ صرف مارکیٹ پر برا اثر پڑے گا بلکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کا بھی بہت بڑا نقصان ہوگا
اظہر میمن

احتجاج میں شریک کراچی سٹاک ایکسچینج کے چھوٹے سرمایہ کار اظہر میمن کا کہنا تھا ’حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسوں کے سبب چھوٹے سرمایہ کار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اب ہم میں مزید نقصان برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ اگر انتظامیہ نے ایس ای سی پی اور اسٹاک بروکرز کے درمیان جاری تنازع ختم کروانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو اس سے نہ صرف مارکیٹ پر برا اثر پڑے گا بلکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کا بھی بہت بڑا نقصان ہوگا‘۔

کراچی سٹاک ایکچینج میں گذشتہ ہفتے بھی مندی کا رجحان رہا تھا اور بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے سودے کرنے سے اجتناب برتنے کا رجحان دیکھا گیا تھا۔

سٹاک ایکچینج کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کی مندی اور آج کی صورتِ حال کا سبب ایس ای سی پی کی جانب سے سٹاک ایکسچینج کے 2005ء کے بحران کے حوالے سے بروکرز کے خلاف کیسز کی سماعت شروع کیے جانے کی خبریں تھیں، جن کا مارکیٹ پر نہایت منفی اثر پڑا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کی طرح اس ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار رہنے کا اندیشہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد