سیاسی افواہیں، مارکیٹ میں مندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک مارکیٹ میں بدھ کے روز سیاسی تبدیلیوں کی افواہوں اور پی ٹی سی ایل نجکاری میں تاخیر کی وجہ سے مندی آگئی۔ سٹاک مارکیٹ بدھ کے روز سارا دن سیاسی تبدیلی کی افواہوں کی زد میں رہی اور مختلف اتار چڑھاؤ کے بعد ایک سو اٹھائیس پوائنٹ کمی کے بعد بند ہوگئی۔ گزشتہ روز کراچی سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس سات ہزار تین سو اکیانوے پر بند ہوا تھا اور ا س میں دو سو چھیاسی پوئنٹس کا اضافہ ہوا تھا لیکن بدھ کو مارکیٹ مندی کا شکار ہوگئی اور انڈیکس سات ہزار دو سو تریسٹھ پر بند ہوا۔ لاہور میں ایک بڑے بروکریج ہاؤس کے کارندہ محمد منیر کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ملک میں قومی سطح پر بڑی سیاسی تبدیلی کی قیاس آرائی گردش کر رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ دوسری طرف بروکرز کے مطابق حکومتی ٹیلی فون کمپنی پی ٹی سی ایل کے ملازموں کی ہڑتال کے بعد کمپنی کی نجکاری کے مسئلے سے بھی مارکٹ پر بُرا اثر پڑا ہے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ہر حال میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری کرے گی کارکنوں کی یونینوں کے اتحاد ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بدھ کو یونینوں کی ایکشن کمیٹی اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ اور حکومتی وزراء کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں لیکن سہ پہر تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یونین کے رہنماؤں رانا طاہر، حاجی خان بھٹی اور ملک مقبول وغیرہ کو نجکاری قبول نہ کرنے کی صورت میں سختی کرنے اور انہیں حراست میں لیے جانےکی دھمکی دی گئی۔ ایکشن کمیٹی کے مطالبہ پر پی ٹی سی ایل ملازمین نے اسلام آباد سمیت کئی شہروں جیسے میں کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی ہے اور کچھ دفتروں کو تالے لگادیے ہیں۔ بروکروں کا کہنا ہے کہ سیاسی افواہوں میں مندی کا تعلق وزیراعظم شوکت عزیز کی تبدیلی سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||