BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 July, 2006, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹاک مارکیٹ کے بحران کی تحقیقات

سٹاک ایکسچینج
بڑے بروکرز پر الزام ہے کہ وہ بحران کے ذمہ دار ہیں
پاکستان حکومت نے سٹاک مارکیٹ کے مبینہ مصنوعی بحران سے تیرہ ارب ڈالر سےزیادہ رقم ڈوبنے کی تحقیقات کرانے اور تین ماہ کے اندر رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے قومی اسممبلی کی فنانس کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد سنیچر کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فنانس کمیٹی نے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دی ہے اور حکومت بیرونی ماہرین سے ’فورینزک آڈٹ‘ کراکے سٹاک مارکیٹ میں مصنوعی بحران کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے گی۔

سٹاک مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والے ادارے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے سابق سربراہ طارق حسن بھی کمیٹی کے پہلے روز اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے ’وائٹ پیپرز‘ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مصنوعی بحران کے ذمہ دار درجن بھر بڑے بروکرز کے خلاف جب کارروائی کرنا چاہی تو وزیراعظم، ان کے مشیر اور دیگر حکام نے انہیں روک دیا۔

قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے اس اجلاس کی کوریج سے حکومت نے صحافیوں کو روک دیا تھا۔ جس کی حزب مخالف کے اراکین کے ساتھ حکومتی رکن کشمالہ طارق نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ جب دیگر کمیٹیوں کی کارروائی میں صحافیوں کی شرکت پر پابندی نہیں ہے تو اس اجلاس سے انہیں کیوں روکا گیا۔

انہوں نے کیفے ٹیریا میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کی کارروائی کو سبوتاز کرنے کے لیے کمیٹی کی منظوری کے بنا بائیس غیر متعلقہ اراکین اسمبلی کو اجلاس میں بلایا گیا اور انہوں نے وہاں ہلہ بول دیا اور کمیٹی کے اراکین کو بولنے ہی نہ دیا۔

سید قربان علی شاہ نے بتایا کہ حکومتی اتحاد کے اراکین عقیل کریم ڈیڈی سمیت ان بروکرز کو اجلاس میں لے آئے جن پر مصنوعی بحران میں اربوں روپے کمانے کا الزام ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں جب طارق حسن نے سٹاک مارکیٹ کی مبینہ بدعنوانی چھپانے کی حکومتی کوششوں کا ذکر کیا تو انہیں بات کرنے سے حکومتی اراکین روکتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ طارق حسن نے اجلاس میں کھل کر کہا کہ مارچ سن دو ہزار پانچ میں جب سٹاک مارکیٹ کا بحران پیدا ہوا تو حکومت نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سلیم اختر کی سربراہی میں تحقیقات کے لیئے ٹاسک فورس بنائی۔ ان کے مطابق ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عارف حبیب اور عقیل کریم ڈیڈی سمیت درجن بھر بروکرز نے مصنوعی بحران پیدا کیا جس میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے تیرہ ارب ڈالر ڈوب گئے۔

قربان شاہ کے بقول طارق حسن نے اجلاس کو بتایا کہ ٹاسک فورس میں نشاندہی کردہ بروکرز کے خلاف جب انہوں نے کارروائی شروع کی تو وزیراعظم نے انہیں روک دیا۔ ان کے مطابق سلمان شاہ اور عمر ایوب انہیں فون کرتے رہے کہ کارروائی نہ کریں اور وزیراعظم نے انہیں خط بھی لکھا کہ بروکرز سے بنا کر رکھیں۔

اس بارے میں جب وزیر مملکت برائے خزانہ سے دریافت کیا تو انہوں نے طارق حسن پر کسی دباؤ کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ جب تک عہدے پر تھے اس وقت تک تمام معاملات میں با اختیار تھے۔

جب ان سے ٹاسک فورس کی رپورٹ پر عمل نہ کرانے کے بارے پوچھا گیا تو وزیر نے کہا کہ معاملے کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے اور اس لیئے انہوں نے ایک غیر ملکی فرم سے ’فورینزک آڈٹ‘ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بحران کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔

نامور وکیل اور رکن اسمبلی مجیب پیرزادہ نے کہا کہ جسٹس سلیم اختر کی رپورٹ انہوں نے پڑھی ہے اور وہ متعلقہ بروکرز کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیئے کافی شہادت فراہم کرتی ہے۔

ان کے ساتھی رکن اسمبلی سید قربان علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے اجلاس میں بھارت کے حوالہ کیس، لالو پرشاد، جے للیتا اور دیگر کے مقدمات کی مثالیں بھی پیش کیں کہ ان مقدمات میں جسٹس سلیم کی رپورٹ سے کم شہادت کے باوجود بھی وہ مقدمات درج ہوئے تھے۔

جسٹس سلیم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قربان علی شاہ نے بتایا کہ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ عارف حبیب اور عقیل کریم سمیت بڑے بروکرز مختلف کمپنیوں کے حصص کم قیمت پر خریدتے ہیں اور پہلے ملی بھگت سے ان کی قیمت بڑھواتے ہیں اور اپنے حصص بیچنے کے بعد مارکیٹ میں ان کی قیمتیں کم کرا دیتے ہیں۔

ان کے مطابق اس سے چھوٹے سرمایہ کار جو لالچ میں سرمایہ لگاتے ہیں ان کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔

قربان علی شاہ نے الزام لگایا کہ بروکرز وزرا اور مختلف اداروں کے سربراہوں سے بھی مختلف حصص کی قیمت بڑھنے کے بارے میں بیانات دلواتے ہیں تاکہ لوگوں کا اعتماد پختہ ہو اور وہ متعلقہ حصص خریدیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ اور رواں برس مئی میں سٹاک مارکیٹ کے مصنوعی بحران میں چھوٹے کاروباریوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کے سولہ سو ارب یعنی چھبیس ارب ڈالر سے زائد رقم ڈوب چکی ہے۔

مجیب پیرزادہ نے کہا کہ اگر تین ماہ میں حکومت نے متعلقہ بروکرز کے خلاف کارروائی نہیں کی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

اسی بارے میں
کے ای ایس سی کی نجکاری منظور
07 February, 2005 | پاکستان
کے ای ایس سی کم قیمت
04 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد