حصص بازار، شدید مندی برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں بڑے پیمانے پر غلط قرضوں کے اجراء کی وجہ سے حصص بازاوں میں مندی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو لندن کا FTSE شیئر انڈکس چھ ہزار کی حد سے نیچے گر گیا۔ برطانوی انڈیکس میں دو اعشاریہ ایک فیصد کی مندی کے ساتھ 5983.3 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی جبکہ ایشیا اور وال سٹریٹ کے حصص بازاروں میں مزید مندی کا رحجان برقرار ہے۔ عالمی سطح پر بینکوں کے درمیان قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے بعد امریکی ڈاؤ جونز انڈکس بدھ کو تیرہ ہزار کی حد سے کم پر بند ہوا۔ جاپان کے نِکی انڈکس میں دو فیصد کی کمی جبکہ ہانگ کانگ میں تین اعشاریہ سات فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ پیرس کی Cac شیئر انڈکس 2.2 فیصد اور جرمنی کی Dax شیئر انڈکس 1.8 فیصد تک گر گئی۔ لندن کا FTSE شیئر انڈکس اس سال مارچ میں حصص کے کاروبار کے دوران چھ ہزار کی حد سے نیچے نہیں گرا۔ آخری مرتبہ لندن شیئر انڈیکس اکتوبر 2006 میں چھ ہزار سے کم کی حد پر بند ہوا تھا۔ بدھ کو امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس ایک اعشاریہ تین فیصد کمی کے ساتھ 12,861.5 پوائنٹس کے ساتھ بند ہوا، چوبیس اپریل کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انڈیکس بارہ ہزار کی حد سے کم پر بند ہوا ہے۔ حصص بازار میں عدم استحکام امریکی سب پرائم مورگیج سیکٹر کی بدولت پیدا ہوا ہے جو خراب کریڈٹ ہسٹری رکھنے والے افراد کو ہائیر رسک قرضوں کی پیشکش کرتا ہے۔ جیسے ہی امریکہ میں شرح سود میں اضافہ ہوا اور ہاؤسنگ کے غبارے سے ہوا نکلی ویسے ہی غیر مستحکم معاشی حالت والے صارفین اپنے قرض کی ادائیگی میں ناکام ہو گئے۔ اس صورت حال نے قرض فراہم کرنے والے کئی اداروں کے لیے شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ شدید مالی بحران کے خدشات بھی پیدا ہو گئے۔ بعض تازہ اعداد وشمار کے مطابق خدشہ ہے کہ تین سو بلین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکے گی مگر ان تمام مسائل سے بڑھ کر یہ کہ قرض فراہم کرنے والے ادارے اس مسئلے کی گہرائی سے واقف نہیں ہیں۔
دنیا بھر میں مرکزی بینکوں نے تجارتی بینکوں کو قرضے جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں تاکہ حصص بازاروں کو سہارا دیا جا سکے۔ بینک آف جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بینکاری نظام کی ازسرنو اعتماد سازی اور قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف پر قابو پانے کے لیے چار سو بلین ین یا تین اعشاریہ چار بلین ڈالر فراہم کرےگا۔ جمعرات کو جاپان میں نِکی انڈیکس دو فیصد کمی کے ساتھ 16,148.49 پر بند ہوا جبکہ ایشیا کے دیگر حصوں، سنگاپور میں تین اعشاریہ سات فیصد اور سڈنی میں آسٹریلیا کے ایس اینڈ پی/ اے ایس ایکس 200 شیئر انڈکس ایک اعشاریہ سات فیصد کے ساتھ بند ہوا۔ ممبئی میں حصص بازار کے حجم میں تین اعشاریہ سات فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ عالمی سطح پر قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونیوالی صورتحال کو دنیا کے بڑے حصص (شیئرز) بازاروں میں شدید مندی کے رحجان کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے حصص بازار میں مسائل کا آغاز اس وقت ہوا جب میرل لنچ نے اپنے مؤکلوں کو کہا کہ وہ ملک کی سب سے بڑی قرض فراہم کرنے والی کمپنی ’کنٹری وائڈ فنانشل‘ کے سارے شیئرز فروخت کردیں۔ اس نے خبردار کیا کہ اگر مارکیٹ میں قرضوں کی دستیابی کی صورت حال خراب ہوتی ہے تو کمپنی ’کنٹری وائڈ‘ دیوالیہ ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ میں اس قسم کی افواہیں بھی گردش میں تھیں کہ کمپنی ضرورت کے لیے درکار رقم کی فراہمی میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سرمایہ کاروں پر امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد وشمار کے ذریعے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ جولائی میں صارفین کے افراط زر میں صفر اعشاریہ ایک فیصد کا اضافہ ہوا جو کہ توقعات سے ذرا سا ہی کم تھا۔ تاہم اب اس خبر پر شیئر مارکیٹ نے قدرے سکون کا سانس لیا ہے کہ فیڈرل ریزروز نے بینکوں کو مزید سات بلین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ رقم جمعہ کو فراہم کیے گئے 38 بلین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے تاہم یہ ایک طرح کی یقین دہانی ہے کہ اگر رقم کی ضرورت پڑی تو مرکزی بینک کی جانب سے فراہم کر دی جائے گی۔ |
اسی بارے میں حصص بازاروں میں شدید مندی10 August, 2007 | آس پاس ’امریکہ کی مدد مگر کس حد تک‘31 January, 2007 | آس پاس نیویارک: پاکستانی بینکر پر الزام 04 May, 2007 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس ٹوکیو بازارِ حصص میں افراتفری18 January, 2006 | آس پاس امریکہ: دو ارب ڈالر روزانہ قرضہ03 August, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||