شیئر بازار ایک بار پھر لڑکھڑایا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حصص بازار ایک بار پھر بری طرح لڑکھڑا گیا ہے ۔ بدھ کے روز بازار میں جب کاروبار شروع ہوا تو شیئر مارکیٹ چار سو سے زیادہ پوائنٹ تک گر چکا تھی اور پھر اس میں گراوٹ بدستور جاری تھی۔ اس وقت شیئر بازار 10,200 پوائنٹ پر ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید مارکیٹ مزید نیچے جائے گی۔ آج بازار میں بڑی بڑی کپمنیاں بھی خسارے میں ہیں ۔ ہنڈالکو، ویپرو اور ماروتی کمپنیوں کے شیئر 5.5 گر چکے ہیں۔ مہانگر ٹیلی فون لمیٹیڈ ( ایم ٹی این ایل ) کو خسارے کا سامنا ہے جب کہ سب سے زیادہ نقصان آئل کمپنیوں اور دھاتوں کے مارکیٹ کو ہے شیئر مارکیٹ کی منڈی انڈیا کے شیئر بازار کو ہی نہیں بلکہ ایشیائی بازار میں بھی بڑے پیمانے پر گراوٹ دیکھی جا رہی ہے ۔شیئر بازار کے شیئر کا کاروبار کرنے والے ترون شاہ نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ مارکیٹ میں مندی کا رججان کی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بازار نکالنا ہے۔ سے پیسہ اور شیئر نکالنے کو اس کی بڑی وجہ بتایا ہے ۔شاہ کے مطابق غیر ملکی انڈیا یا ایشائی بازار میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں کیونکہ اب تک انہیں فیڈرل بینک کی جانب سے شرح سود کم ملا کرتی تھی لیکن اب بینک نے شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے اس لئے وہ اپنی رقم نکال رہے ہیں اور یہی وجہ ہمارے یہاں کے شیئر بازار کے لڑکھڑانے کی ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ غیرملکی اپنی رقم اس وقت لگاتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ بازار نرم ہے ۔ان کے پیسہ لگاتے ہی بازار میں اچھال آتا ہے اور تیزی کے آتے ہی وہ اسے بیچ دیتے ہیں جس کے بعد بازار لڑکھڑانے لگتا ہے ۔جس کے بعد سرمایہ کاروں میں کھلبلی مچ جاتی ہے ۔کئی اس میں تباہ ہو جاتے ہیں ۔ممبئی میں ایک ہیروں کے تاجر راجو دگس والا نے چند روز پہلے اسی لئے خودکشی کر لی تھی ۔ بہرحال بازار کی حالت اس وقت نازک بنی ہوئی ہے شیئر بازار میں 2,020 رجسٹر تاجر ہیں جس میں سے 1,775 کے شیئرز کی قیمتیں گر چکی ہیں اور انہیں سنبھلنے میں وقت لگ سکتا ہے اس دوران چھوٹے سرمایہ کاروں کوسب سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے ۔ | اسی بارے میں بھائیوں کے جھگڑے سے مارکیٹ ڈاؤن25 November, 2004 | انڈیا نئے اندیشوں سے مارکیٹ متاثر17 May, 2004 | انڈیا من موہن کے بیان نے بازار ہلا دیا20 May, 2004 | انڈیا معلق پارلیمان کا خطرہ، مارکیٹ ڈاؤن27 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||