BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 January, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ کی مدد مگر کس حد تک‘
برسلز
یورپی یونین میں شامل کئی ممالک معلومات کے حصول کے امریکی طریقۂ کار سے خوش نہیں ہیں
یورپیئن پارلیمان اس موضوع پر بحث کر نے والی ہے کہ امریکہ کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور بینکوں میں لین دین کے بارے میں کس حد تک معلومات فراہم کی جانی چاہیں۔

یورپی یونین اس حوالے سے پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکی ہے کہ موجودہ طریقۂ کار کے تحت مسافروں سے متعلق جن معلومات تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے وہ اس کے اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی کسی حد تک خلاف ورزی ہے۔

جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ بینکوں میں ہونے والے لین دین اور مسافروں کے بارے میں معلومات کا حصول دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ میں ایک ضروری ہتھیار ہے۔

امریکہ نے ’نائن الیون‘ کے واقعہ کے بعد مسافروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ تاہم یورپی یونین میں شامل کئی ممالک معلومات کے حصول کے امریکی طریقۂ کار سے خوش نہیں ہیں۔

گزشتہ برس یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا بھر میں رقوم منتقل کرنے والی ایک نجی کمپنی ’سؤفٹ‘ یورپی یونین کے پرائیوسی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ کو معلومات فراہم کر رہی ہے۔

بحث ہی نہیں ہوئی
 امریکی اقدامات پر نہ تو یورپی سطح پر اور نہ ہی رکن ممالک کی اپنی اپنی پارلیمان میں جمہوری بحث ہوئی ہے
رکن پارلیمان صوفی

یورپی ارکانِ پارلیمان اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ معلومات دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تیار کیے گئے خودکار امریکی نظام ’آٹومیٹیڈ ٹارگیٹنگ سسٹم‘ کو فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اگر امریکہ نے کسی ٹیلی کمیونیکیشن یا انشورنس کمپنی سے بھی ایسی ہی مدد حاصل کر رکھی ہے تو کیا یہ بات یورپی یونین کے علم میں ہے؟

یورپی کمیشن نے اپنے طور پر امریکی حکومت سے تحریری طور پر پوچھا ہے کہ وہ آٹومیٹیڈ ٹارگیٹنگ سسٹم کے ذریعے جو معلومات حاصل کر رہا ہے اس سے کہیں ان کے درمیان معلومات کے تبادلے کے معاہدے سے تجاوز تو نہیں کیا جا رہا۔

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمان صُوفی کا کہنا تھا کہ اسے امریکہ کی مخالفت نہ سمجھا جائے، بلکہ امریکہ میں تو پرائیویسی قوانین یورپی یونین کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں۔

صوفی کے مطابق لیکن ان قوانین کا یورپ میں نفاذ نہیں ہوتا اور امریکی اقدامات پر نہ تو یورپی سطح پر اور نہ ہی رکن ممالک کی اپنی اپنی پارلیمان میں جمہوری بحث ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد