BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یورپ کی کامیابی آئین پر منحصر‘
مرکل نے یورپی یونین کے لیے اگلے چھ ماہ کا ایک منصوبہ بھی مرتب کیا ہے
جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے متبہ کیا ہے کہ اگر یورپ نے تعطل کا شکار آئین بحال نہ کیا تو اسے بڑی ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔

یورپی یونین کی جرمن صدارت کا منصوبہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونین کے تمام ممالک کو 2009 کے یورپی انتخابات سے قبل ایک نئے چارٹر پر اتفاق کرنا ہوگا۔

انجیلا مرکل کے مطابق ’یورپی یونین آزادی کی روایات، برداشت اور متنوع مزاج ہونے کے حوالے سے ایک کامیاب تجربہ ہے‘۔

انہوں نے یورپی یونین کے لیے اگلے چھ ماہ کا ایک منصوبہ بھی مرتب کیا ہے جس میں توانائی، موسمیاتی تغیر اور عالمی تجارت پر زور دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت روس کے ساتھ پارٹنرشپ کا ایک نیا معاہدہ کیا جائے گا اور مشرق وسطٰی میں امن کے لیے کوششیں بڑھائی جائیں گی۔

اجیلا مرکل کا موقف سابقہ جرمن حکومت کے بالکل برعکس ہے جب حکومت کی ترجیح امریکہ کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کا قیام اور آزادانہ تجارت تھی۔

مرکل کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ پر زور دیں گی کہ وہ کیوٹو پروٹوکول معاہدے سے قبل ماحولیات سے متعلق معاہدے پر متفق ہوجائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنا ایک مشترکہ موقف رکھنا ہوگا اور افغانستان میں امن اور ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ مرکل کا خیال ہے کہ افریقہ میں سرمایہ کاری سیاسی اور معاشی اعتبار سے ایک مثبت تجربہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونینکی خارجہ پالیسی کو مزید موثر بنانے کے لیے یونین کا اپنا وزیر خارجہ ہونا ضروری ہے۔ 18 ماہ پہلے یورپ کا اپنا وزیر خارجہ مقرر کرنے کی تجویز فرانس اور ہالینڈ نے رد کردی تھی۔

اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ یورپی یونین میں 15 سے 27 ممالک کی توسیع کے بعد اس کے موثر طور پر کام کرنے کے لیے وزیر خارجہ کا تقرر ضروری ہے۔

انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ ’جون تک ہمیں یونین کے آئین کے بارے میں کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا‘۔

بی بی سی کی نامہ نگار ایلکس کروگر کے مطابق تاہم جرمن چانسلر کے پرجوش موقف کے باوجور جرمنی کو اس بارے میں زیادہ توقعات نہیں ہیں کہ تعطل شدہ آئین کا مسئلہ حل ہوسکے گا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مارچ میں یورپی یونین کے قیام کے پچاس سال پورے ہورہے ہیں تاہم آئین سے متعلق تعطل کسی بھی طرح کے جشن منانے کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد