رومانیہ، بلغاریہ یورپی یونین میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رومانیہ اور بلغاریہ کے عوام روایتی رقص اور ’راک‘ موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نئے سال کے ساتھ ساتھ یورپی یونین میں شمولیت کا جشن بھی منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے ہزاروں شہری دارالحکومتوں میں ہونے والی موسیقی کی محافل میں شریک ہیں۔ یورپی کمیشن کے سربراہ سمیت متعدد یورپی رہنما بھی اس جشن میں شرکت کر رہے ہیں۔ یکم جنوری دو ہزار سات سے یورپی یونین کے ممبران کی تعداد دو ممالک کے اضافے کے ساتھ ستائیس ہوگئی ہے جن میں قریباً نصف ارب افراد رہائش پدیر ہیں۔ یورپی یونین میں شمولیت کی تقریبات کا آغاز رومانیہ کے دارالخلافہ بخارسٹ سے ہوا جہاں حکومت ہیڈکوارٹرز کے سامنے ’ای یو‘ کا جھنڈا لہرایا گیا۔ اس موقع پر آتشبازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔ رومانیہ کے وزیراعظم کیلن ٹیریکینو نے اس موقع پر کہا کہ یہ وہ موقع ہے جس کا انتظار رومانیہ کے عوام سترہ برس قبل کمیونسٹ ڈکٹیٹر نکولائی چاؤشکسکو کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کر رہے تھے۔ بلغاریہ اور رومانیہ یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک کی نسبت غریب ہیں اور کچھ یورپی ممالک کا خدشہ ہے کہ ای یو میں ان دونوں ممالک کی شمولیت کے ساتھ ہی باقی ممالک میں مہاجرین کا سیلاب آ جائے گا۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو غیر ممالک میں کام کرنا چاہتے ہیں، وہ پہلے ہی وہاں جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ترکی اور فرانس میں شدید اختلاف 12 October, 2006 | آس پاس برطانیہ میں داخلہ کتنا آسان02 December, 2006 | آس پاس ترکی سائپرس کو راستہ دینے پر تیار08 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||