BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 03:29 GMT 08:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ میں داخلہ کتنا آسان
بی بی سی رپورٹر شاہدہ
بی بی سی رپورٹر شاہدہ دو مرتبہ جعلی پاسپورٹ پر برطانیہ میں داخل ہوئی۔
بی بی سی کی ایک رپورٹر نے پانچ ماہ یورپی ممالک کے بیس جعلی پاسپورٹ کر کے اور انہی جعلی پاسپورٹوں پر دو مرتبہ برطانیہ میں داخل ہو کر برطانوی سکیورٹی اداروں کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام پانوراما کے لیے بی بی سی کی رپورٹر شاہدہ تولاگنووا نے یورپی یونین کے بیس ممالک کے جعلی پاسپورٹ آسانی سے خریدے اور دو مرتبہ وہ برطانیہ میں جعلی پاسپورٹ کی مدد سے آرام سے داخل بھی ہوئیں۔

انہوں نے یورپی ممالک کے جعلی دستاویزات کے لیے اپنی تلاش لندن سے شروع کی جہاں روسی زبان کے اخباروں میں ایسے پاسپورٹ بنانے والے اشتہار دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ مشرقی یورپ کے چند ممالک گئیں جہاں ان کا تعارف ان گروہوں سے کروایا گیا جو یہ کاروبار چلاتے ہیں۔ پولینڈ میں شاہدہ کو چوری کیے گئے لتھوینین اور پولش پاسپورٹ بیچے گئے اور ساتھ ہی برطانیہ میں داخل ہونے کے بہترین طریقے بھی بتائے گئے۔

جعلی پاسپورٹ بیجنے والوں نے شاہدہ کو بتایا کہ وہ برطانیہ میں داخلے کے لیے ایسے ہوائی اڈوں سے سفر نہ کریں جہاں پوچھ گچھ اسی ملک کی زبان میں ہو جہاں کا پاسپورٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ جعلی یا چوری کیا گیا پاسپورٹ صرف دو سو ڈالر میں بھی خریدا جا سکتا ہے،جس کے تحت وہ برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کا حق دیتا ہے، اور ساتھ ہی مفت طبی سہولیات اور سرکاری مراعات بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے سرحدوں پر سکیورٹی سخت کرنے کے اقدامات کے باوجود، بی بی سی کی یہ رپورٹر ایک مرتبہ جعلی لیٹوین پاسپورٹ پر اور دوسری بار چرائے ہوئے ایسٹونین پاسپورٹ پر برطانیہ میں داخل ہونے میں کامیاب رہیں۔

شاہدہ کو پاسپورٹ بیچنے والا ایک شخص اتنا پر اعتماد تھا کہ اس نے صرف شاہدہ کے برطانیہ میں داخل ہونے کے بعد پیسے لیے۔دوسرے شخص نے انہیں کہا کہ اگر کسی نے ان سے پاسپورٹ کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو وہ اگلی مرتبہ انہیں ایک اور جعلی پاسپورٹ مفت دے گا۔

جو بھی شخص جعلی پاسپورٹ بیچنے یا استعمال کرنے کے جرم میں پکڑا جاتا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا مل سکتی ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ باقی یورپی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال ہو سکے جس کی مدد سے جعلی پاسپورٹ پکڑنے میں آسانی ہو۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ای پاسپورٹ کا تعارف بھی کروایا گیا ہے جن میں ایک چپ ہوتا ہے جس پر تصاویر موجود ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں
امریکہ: رسی کا سانپ
30 October, 2003 | صفحۂ اول
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد