ترکی سائپرس کو راستہ دینے پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کا رکن بننے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ایک اور کوشش میں ترکی نے سائپرس کے لیے ایک بندرگاہ اور ایک ایئرپورٹ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ اس بات کا اعلان یورپی یونین کے موجودہ سربراہ ملک فن لینڈ نے کیا ہے۔ تاہم فن لینڈ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس پیشکش کے بعد بھی ترکی یورپی یونین کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو ترکی کو رکنیت دینے کے بارے میں بات چیت کرینگے، جبکہ اس بارے میں حتمی فیصلہ چودہ اور پندرہ دسمبر کو ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔ اس پیشکش سے پہلے ترکی کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ یورپی یونین پہلے اس (ترکی) کے زیر انتظام شمالی سائپرس پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرتے ہوئے ایرکن ایئرپورٹ اور فیماگسٹا کی بندرگاہ سے تجارت کی اجازت دے۔ لیکن ترکی پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ سائپرس کو تسلیم کرنے کے عملی قدم کے طور پر پہلے وہ اپنے ائیرپورٹ اور بندرگاہیں اس (سائپرس) کے لیے کھولے۔ یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے ترکی کی نئی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ’انقرہ پروٹوکول‘ پر عمل کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ یاد رہے کہ انقرہ پروٹوکول ترکی اور یورپی یونین کے سائپرس سمیت نئے ارکان کے درمیان تجارتی روابط سے متعلق ہے۔ | اسی بارے میں روس، یورپی یونین اجلاس ناکام24 November, 2006 | آس پاس ترکی اور فرانس میں شدید اختلاف 12 October, 2006 | آس پاس ترکی کی شمولیت کے لیے مذاکرات12 June, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس ترک وزیر اعظم کا یورپ سے شکوہ17 December, 2005 | آس پاس یورپی یونین، ترکی مذاکرات کی تیاری02 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||