BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 December, 2006, 05:08 GMT 10:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی سائپرس کو راستہ دینے پر تیار
ترکی
ترکی شمالی سائپرس پر عائد معاشی پابندیاں کو خاتمہ چاہتا ہے
یورپی یونین کا رکن بننے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ایک اور کوشش میں ترکی نے سائپرس کے لیے ایک بندرگاہ اور ایک ایئرپورٹ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔

اس بات کا اعلان یورپی یونین کے موجودہ سربراہ ملک فن لینڈ نے کیا ہے۔ تاہم فن لینڈ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس پیشکش کے بعد بھی ترکی یورپی یونین کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔

یورپی یونین میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو ترکی کو رکنیت دینے کے بارے میں بات چیت کرینگے، جبکہ اس بارے میں حتمی فیصلہ چودہ اور پندرہ دسمبر کو ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔

اس پیشکش سے پہلے ترکی کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ یورپی یونین پہلے اس (ترکی) کے زیر انتظام شمالی سائپرس پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرتے ہوئے ایرکن ایئرپورٹ اور فیماگسٹا کی بندرگاہ سے تجارت کی اجازت دے۔

لیکن ترکی پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ سائپرس کو تسلیم کرنے کے عملی قدم کے طور پر پہلے وہ اپنے ائیرپورٹ اور بندرگاہیں اس (سائپرس) کے لیے کھولے۔

یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے ترکی کی نئی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ’انقرہ پروٹوکول‘ پر عمل کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ یاد رہے کہ انقرہ پروٹوکول ترکی اور یورپی یونین کے سائپرس سمیت نئے ارکان کے درمیان تجارتی روابط سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد